اسلام آباد: وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کو اکتوبر کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔
کمرشل پروازوں کے لیے حیدرآباد ایئرپورٹ کی طویل بندش کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس روٹ پر پی آئی اے کی پروازیں دوبارہ کھولنا مالی طور پر ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پی آئی اے کو اس وقت 20 ارب روپے کے قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے ، ایسے راستے جو مالی طور پر قابل عمل نہیں ہیں آپریٹ نہیں کیے جا سکتے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پرائیویٹ ایئر لائن حیدرآباد ایئرپورٹ سے کام کرنا چاہتی ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت جلد از جلد برطانیہ جانے اور جانے والی پروازوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے یہاں مقیم پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے، یہاں تک کہ ہم نے پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے برطانیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی کی تازہ ترین ضروریات کے مطابق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کے ایک وزیر کے غیر ذمہ دارانہ بیان نے یورپ، برطانیہ اور مغربی دنیا میں پاکستان کے تمام طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا۔

