English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

راہل گاندھی نے پھر مودی اور آر ایس ایس کو نشانے پر لے لیا

بھارت کے اپوزیشن لیڈر اور سابق حکمراں جماعت کانگریس کے مرکزی رہنما راہُل گاندھی نے کہا ہے کہ بھارت میں بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ نریندر مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کا جادو ٹوٹ چکا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اب وہ خوف نہیں رہا جو دو چار سال پہلے تک تھا۔

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر ہرنڈن میں بھارتی نژاد باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ لوگوں کے دلوں سے بی جے پی اور نریندر مودی کا خوف نکل چکا ہے۔ لوگ جو تبدیلی چاہتے تھے وہ لائی جاچکی ہے۔ حالیہ عام انتخابات نے فیصلہ کردیا۔ نریندر مودی یہ سمجھ رہے تھے کہ اب بی جے پی ہمیشہ اقتدار میں رہے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ لوگوں نے جان لیا ہے کہ جب کوئی جماعت مستقل اقتدار میں رہتی ہے تو اُس کی سوچ بدل جاتی ہے، مفادِ عامہ اور قومی تعمیر و ترقی کے اہداف اُس کے لیے اہم نہیں رہتے۔ پھر اقتدار برقرار رکھنا ہی سب سے بڑا مقصد رہ جاتا ہے۔ بی جے پی اور اُس کی ہم خیال جماعتوں کے معاملے میں ایسا ہی ہوا ہے۔

راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بی جے پی کی طرزِ حکمرانی کے خلاف جو احتجاج کرنا تھا وہ اُنہوں نے بیلٹ بکس کے ذریعے کردیا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس نے مل کر یہ تاثر عوام کے ذہنوں میں ٹھونس دیا تھا کہ نریندر مودی خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور بھارت کے لیے اُن ذات نعمت سے کم نہیں۔ نریندر مودی کو بھارت کے لیے کوئی انسان نہیں بلکہ آئیڈیا سمجھا جارہا تھا۔ لوگوں کو باور کرایا جارہا تھا کہ نریندر مودی کو خدا نے بھیجا ہے اور وہ بھارت کے لیے نجات دہندہ ہیں۔ دن رات یہی راگ الاپا جارہا ہے کہ نریندر مودی سے ہٹ کر بھارت کے لیے کسی لیڈر کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ریاستی وسائل خرچ کرکے میڈیا کی مدد سے جو خوف برسوں میں پیدا کیا تھا وہ چند سیکنڈز میں غائب ہوگیا۔ لوگوں کے ذہن جکڑے ہوئے تھے۔ اُنہیں باور کرایا جاتا تھا کہ ہمیشہ کے لیے بی جے پی کو اپنی حکمراں جماعت کے طور پر قبول کرلیں۔ عوام نے فیصلہ سُنادیا کہ اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔

راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا تھا کہ آر ایس ایس بضد ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے، ہندوؤں کے لیے ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ بھارتی معاشرہ متنوع ہے۔ اس میں مسلمان بھی ہیں، سِکھ بھی، عیسائی بھی، بُدھسٹ بھی اور پارسی بھی۔ معاشرے کا تنوع سمجھنا اور قبول کرنا ہوگا۔ اگر بھارت کو صرف ہندوؤں کی جاگیر سمجھ لیا جائے تو معاشرے میں بگاڑ کے سوا کچھ بھی پیدا نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے