نیویارک(صباح نیوز)اقوام متحدہ نے امریکی مخالفت کو نظر انداز کر کے فلسطین کو جنرل اسمبلی میں رکن ممالک کے درمیان نشست الاٹ کر دی ہے ۔ یہ ایک نیا حق ہے جو فلسطینی وفد کو ادارے کا مکمل رکن نہ ہونے کے باوجود دیا گیا۔مئی میں جنرل اسمبلی کی بھاری اکثریت نے زور دے کر کہا تھا کہ فلسطینی مکمل رکنیت کے حقدار تھے لیکن اس اقدام کو امریکا نے روک دیا تھا۔جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد میں وفد کو بعض نئے حقوق عطا کیے لیکن یہ اسے ووٹ دینے یا سلامتی کونسل کا رکن بننے سے بدستور خارج کیے ہوئے ہے۔ منگل کو شروع ہونے والے جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے آغاز کرتے ہوئے فلسطینی اپنی تجاویز اور ترامیم پیش کر سکتے ہیں اور رکن ممالک کے درمیان بیٹھ سکتے ہیںلیکن ووٹ نہیںدے سکیںگے۔ اقوامِ متحدہ میں فلسطینی ایلچی ریاض منصور نے منگل کی سہ پہر سری لنکا اور سوڈان کے درمیان ’’ریاست فلسطین‘‘ کے نشان والی میز پر اپنی جگہ سنبھالی۔ مصری سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے کہا، یہ محض ایک ضابطے کا معاملہ نہیں ہے، یہ ہمارے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
