بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے چند روز قبل چیف جسٹس آف انڈیا کے گھر گنیش چترتھی کی پوجا میں حصہ لیا تھا۔ اُن کے اس اقدام نے ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ سابق حکمراں جماعت نے اس حوالے سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم کے منصب پر فائز کسی بھی شخصیت کو کسی بھی سرکاری عہدیدار کے گھر جاکر اس نوعیت کی تقریب میں شریک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اُن کے لیے غیر جانب داری شرط ہے۔
نریندر مودی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاملہ پوجا کا تھا اس لیے رعایتی نمبر دیے جانے چاہئیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی جاکر عبادت کرنے کا حق حاصل ہے۔
بھارتی میڈیا میں بھی اس حوالے سے پیالی میں طوفان اٹھانے والی کیفیت برپا ہے۔ مودی کے ناقدین اس معاملے کو خوب اچھال رہے ہیں اور اُن پر جانب داری برتنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ معاملہ کسی اور کے نہیں بلکہ چیف جسٹس کے گھر جاکر عبادت کرنے کا ہے۔ وزیرِاعظم کا یہ اقدام بہت کچھ بیان کر رہا ہے۔ اس سے خود چیف جسٹس کی غیر جانب داری بھی متاثر ہوتی ہے۔
ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نریندر مودی مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہیں۔ انہوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام جنم بھومی مندر بنواکر اُس کے افتتاح کو بھی سیاسی فوائد کے لیے پوری قوت سے استعمال کیا۔ اب وہ پوجا کے معاملات کو بھی سیاسی فوائد بٹورنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چیف جسٹس کے گھر میں گنیش پوجا کرنے پر واویلا بے بنیاد ہے۔ انگریزوں کا بھی یہی طریقہ تھا۔ وہ بھی گنیش پوجا پر پابندی لگاکر معاشرے کو تقسیم کردیا کرتے تھے۔

