لاہور (نمائندہ جسارت) پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ درخواست اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دائر کی، جس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ موجود ہے، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے اختیارات کو کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت صدارتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک صدارتی آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کا حکم جاری کرے۔ صدر زرداری نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس پر دستخط کیے، جس کے بعدیہ جاری کر دیا گیا۔
