اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی لاہور ہائی کورٹ کے پنجاب میں 8 الیکشن ٹریبونلز کے قیام کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ یہ ٹریبونلز 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد انتخابی تنازعات کے حل کے لیے بنائے گئے تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ملک کی اعلیٰ انتخابی اتھارٹی کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اس بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے۔
یہ معاملہ الیکشن ٹریبونلز کے قیام کے اختیار سے متعلق ہے، جو کہ گزشتہ کئی مہینوں سے لاہور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن پاکستان کے درمیان تنازع کا باعث رہا ہے۔
یہ مسئلہ اُس وقت سامنے آیا جب جون میں اُس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے متعلق انتخابی درخواستوں کی سماعت کے لیے آٹھ الیکشن ٹریبونلز تشکیل دیے تھے۔
یہ پیش رفت اُس کے بعد سامنے آئی جب 29 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے انتخابی ادارے کو حکم دیا کہ مزید چھ ججوں کو ٹریبونلز میں شامل کیا جائے۔ یہ ججز لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے نامزد کیے گئے تھے تاکہ عام انتخابات سے متعلق انتخابی درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اگر ایلکشن کمیشن پاکستان نے عدالت کے احکامات پر عمل نہ کیا تو نوٹیفکیشن جاری تصور کیا جائے گا۔
یہ تنازع انتخابی ایکٹ 2017 میں کی جانے والی ترامیم سے جڑا ہے، جن میں یہ وضاحت شامل تھی کہ کن ججوں کو الیکشن ٹریبونلز کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ میں پہنچا، جس نے 4 جولائی کو لاہور ہائی کورٹ کے اضافی الیکشن ٹریبونلز کے قیام کے فیصلے اور ای سی پی کے 26 اپریل کے نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا تھا۔

