کیلیفورنیا: امریکی ریاست کیلیفورنیا نے اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد طلباء کی ذہنی صحت کو بہتر بنانا اور تعلیمی کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
گورنر گیون نیوزوم کی جانب سے دستخط کیے گئے اس قانون کے تحت اسکولوں کے اضلاع کو 1 جولائی 2026 تک اسمارٹ فون کے استعمال کو محدود کرنے والی پالیسیوں کی تیاری کی ہدایت کی گئی ہے۔ قانون کا مقصد اسمارٹ فونز کے زیادہ استعمال سے دماغی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات اور بچوں کی تعلیم میں رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قانون فلوریڈا کی برتری کے بعد تیرہ امریکی ریاستوں کی طرف سے اسکولوں میں سیل فونز کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کے سلسلے میں ہے۔
کیلیفورنیا نے خاص طور پر اسمارٹ فونز کے کیمپس میں استعمال کو محدود کرنے یا اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک بل منظور کیا ہے، جس کے تحت اسکول مالکان کو پالیسیوں کی تیاری اور ہر پانچ سال بعد ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔
گورنر نیوزوم کے مطابق اسمارٹ فونز کا زیادہ استعمال بچوں میں بے چینی، ڈپریشن اور دیگر دماغی صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اُن کے مطابق یہ قانون طالب علموں کو موبائل اسکرینوں کے بجائے سیکھنے اور آپس میں بات چیت کرنے پر توجہ دینے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

