English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نئے ورلڈ آرڈر کی گونج سنائی دے رہی ہے،شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب

نیویارکـ: وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
نیویارکـ: وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

نیویارک ،بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک،خبر ایجنسیاں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور قتل عام سمیت دنیا کے نظام کو درپیش سنگین چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ہمیں نئے ورلڈ آرڈر کی گونج سنائی دے رہی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے نظام کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور قتل عام، یوکرین میں خطرناک تنازع، افریقہ اور ایشیا بھر میں تباہ کن تباہ کن تنازعات، دنیا بھر میں بڑھتا ہوا تناؤ، دہشت گردی میں اضا فہ، بڑھتی ہوئی غربت، ماحولیاتی تبدیلی کے ہمالیا نما چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ہمیں نئے ورلڈ آرڈر کی گونج سنائی دے رہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ان چیلنجز کو دیکھتے ہوئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فیوچر سمٹ بلانے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں مستقبل کے معاہدوں کے ترقی، امن و سیکورٹی، ٹیکنالوجی اور عالمی گورننس کے حوالے سے 54 اقدامات کو اپنانے کا معاہدہ طے پانا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج میں آپ کے سامنے غزہ کے عوام کی حالت زار پر پاکستان کے عوام کے درد اور تکلیف کو بیان کرنے کے لیے موجود ہوں، اس مقدس سرزمین پر ہونے والے ظلم پر ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں، ایک ایسا سانحہ جس نے انسانیت کے ضمیر اور اس ادارے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ کے معصوم بچوں کا خون صرف وہاں ظلم کرنے والوں کے ہاتھوں پر نہیں بلکہ ان کے ہاتھوں پر بھی ہے جنہوں نے تنازع کو طول دیا، ان لوگوں کی درپیش مشکلات کو نظرانداز کر کے ہم انسانیت کا قتل کررہے ہیں، صرف مذمت کافی نہیں بلکہ ہمیں فوری اقدامات کرنا ہوں گے اور اس قتل عام کو فوری روکنے کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فلسطینیوں کا خون اور قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی، ہمیں ان کو درپیش مشکلات کے بارے میں فکرمند ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، ہمیں دو ریاستی حل کے ذریعے پائیدار امن کے قیام کی کوششیں کرنی چاہییںاور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک ایسی قابل عمل، محفوظ اور خودمختار ریاست فلسطین قائم کرنی چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو اور ان اہداف کے حصول کے لیے فلسطین کو اقوام متحدہ کا مکمل رکن بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔اس مرحلے پر انہوں نے لبنان پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت 500 سے زائد افراد شہید ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے سے اسرائیل کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس نے پورے مشرق وسطیٰ کے خطے کو جنگ میں جھونکنے کے خطرے سے دوچار کردیا ہے جس کے نتائج انتہائی ہولناک ہوں گے کہ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام بھی ایک صدی سے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کررہے ہیں، امن کی جانب پیش قدمی کے بجائے بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جموں و کشمیر کے حوالے سے منظور شدہ قراردودوں کی پاسداری کے وعدوں سے پھر گیا ہے، یہ قراردادیں جموں اور کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت کا استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے رائے شماری کا حکم دیتی ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر نے یکطرفہ بنیادوں پر غیرقانونی اقدامات کرنے کا آغاز کیا ہے جسے ان کے لیڈرز جموں و کشمیر کا حتمی حل تصور کرتے ہیں، دن رات 9لاکھ بھارتی فوجی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو طویل کرفیو، ماورائے عدالت قتل اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کے اغوا جیسے انسانیت سوز اقدامات کے ذریعے دہشت زدہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسی کے ساتھ ہی ایک کلاسک نوآبادیاتی سیکولر منصوبے کے تحت کشمیری سرزمینوں اور جائیدادوں کو غصب کررہا ہے اور جموں و کشمیر میں باہر سے آنے والوں کو آباد کررہا ہے تاکہ مکروہ عزائم کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر سکے، تمام طرح کی طاقت کے ذریعے اس طرح کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں لیکن ایسے حربے ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں اور اللہ نے چاہا تو یہ جموں و کشمیر میں بھی ناکامی سے دوچار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت نے کئی مواقع پر لائن آف کنٹرول عبور کر کے آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکیاں دی ہیں لیکن میں دوٹوک انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے بھارت اپنے ان یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو واپس لے جو اس نے 5 اگست 2019 کے بعد سے کیے ہیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر تنازع کے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کے لیے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو تقریر کیلیے آئے تو پاکستان سمیت دیگر ممالک نے احتجاجا واک آؤٹ کیا۔وزیراعظم اپنی تقریر ختم کر کے مقرر کردہ نشست پر پہنچے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو خطاب کیلیے مدعو کیا گیا، اس دوران وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستانی وفد نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔اس کے علاوہ فلسطین کی حمایت کرنے والے دیگر ممالک کے وفود بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور احتجاج ریکارڈ کرانے کیلیے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔اسرائیلی وزیراعظم بن یامن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ حماس کے خاتمے کے بعد غزہ نئی انتظامیہ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اسرائیل کے خلاف الزامات اور پروپیگنڈا نے شرکت پرمجبورکیا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ایسے دشمن سے واسطہ پڑگیا جو اسرائیل کے وجود کو مٹانا چاہتاہے۔انہوں نے کہا کہ میرا ملک اپنے لوگوں کی حفاظت کی جنگ لڑ رہا ہے، 7 اکتوبر کے حملوں کا کوئی جواز نہیں بنتا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں پر آنے والے حملہ آوروں نے میوزک کنسرٹ میں شہریوں کو درندگی کا نشانہ بنایا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اسرائیل بیک وقت مختلف محاذوں پر جنگ میں مصروف ہے، ان محاذوں کو ایران کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔نیتن یاہو نے کہا کہ ایران میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں اسرائیل پہنچ نہیں سکتا، اسرائیل ایران کو ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی کو ناکام بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم نے غزہ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور فلسطین اور لبنان کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر زور دیا۔وزیراعظم اور ایرانی صدر کی ملاقات اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔دریں اثناء سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے اپنے موقف پر قائم ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد بنا رہے ہیں جس کا پہلا اجلاس ریاض میں ہوگا۔اس بات کا اعلان سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آج عرب اسلامی اقوام اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل ہم فلسطین کے دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کا اعلان کرتے ہیں اور آپ سب کو اس میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ اس اتحاد کا پہلا اجلاس جلد سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوگا۔سعودی وزیر خارجہ نے نے انٹرنیشنل الائنس کے بارے میں مزید تفصیلات تو نہیں بتائیں البتہ اس اتحاد کے تشکیل کی ابتدا ضرور کردی۔سعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی بحران اور مغربی کنارے میں اسرائیلی افواج کی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کو فلسطین پر قبضے اور پرتشدد انتہا پسندی کی وسیع پالیسی کا حصہ قرار دیا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا امریکا، اتحادی اور عرب ممالک کا لبنان جنگ بندی مطالبہ ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہیں گے، حزب اللہ کو پوری قوت سے نشانہ بناتے رہیں گے، جنگ بندی نہیں ہوگی۔علاوہ ازیںاسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی ٹاؤن میں حزب اللہ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا نے کا دعویٰ کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے طاقتور میزائلوں سے فضائی حملے کیے۔ عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ائرپورٹ روڈ پر مخصوص عمارت کو نشانہ بنایا، اسرائیلی طیاروں نے البرج عمارت پر 10 میزائل داغے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے حزب اللہ کے سینٹرل کمانڈ کو بمباری کا نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حزب اللہ کا سینٹرل کمانڈ عمارت کے نیچے قائم کیا گیا تھا، بمباری کا اصل ہدف حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ تھے۔عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ 5 روز میں یہ اسرائیلی فوج کی بیروت پر سب سے طاقتور بمباری ہے، جنوبی ٹاؤن پراسرائیلی بمباری میں 4 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔دوسری جانب ایرانی خبررساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ محفوظ رہے تاہم حزب اللہ کی جانب سے اب تک اس بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ایک سینئر ایرانی سکیورٹی ذرائع نے خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران حسن نصر اللہ کے بارے میں معلومات حاصل کررہا ہے۔رائٹرز کے مطابق حزب اللہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں حسن نصر اللہ کی شہادت نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں مزید 29 افراد جاں بحق ہوگئے جس سے شہادتوں کی مجموعی تعداد 700 سے تجاوز کرگئی جن میں حزب اللہ کے اہم ترین کمانڈرز بھی شامل ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی برادری کے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی فضائیہ نے لبنان پر مسلسل چوتھے دن بمباری جاری رکھی۔ لبنانی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے تازہ حملوں میں مشرقی سرحد کے ساتھ واقع وادی بیکا کے قصبے کو نشانہ بنایا جہاں اکثریت شامیوں کی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حزب اللہ سے منسلک تقریباً 220 اہداف کو نشانہ بنایا۔قبل ازیں اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ان حملوں میں حزب اللہ کے فضائی یونٹ کے سربراہ محمد حسین سرور مار گئے تاہم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی دعوئوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔دریں اثنا اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیانات میں حزب اللہ نے کہا کہ اس نے حیفا کے شمال میں احیود پر 50 سے زیادہ میزائل فائر کیے اور اسرائیل کے شمال میں مختلف علاقوں میں کریات شمونہ، فوجی چوکیوں اور ایک کمانڈ بیس پر راکٹوں کے بیراج بھی راکٹس داغے۔حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے 2 جنگی طیارے لبنان کی فضائی حدود چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے