English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سبزی فروش کا بیٹا حزب اللہ کا سربراہ بن گیا

اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا ایک بڑا استعارہ حسن نصراللہ کی شخصیت ہے۔ حسن نصراللہ نے 1992 میں صرف 32 سال کی عمر میں حزب اللہ ملیشیا کی کمان سنبھالی۔ اُن کے والد سبزی بیچا کرتے تھے۔ زندگی بہت سادہ تھی کیونکہ وسائل برائے نام تھے۔ حسن نصراللہ کی زندگی میں زیادہ اچھل کود اور تام جھام نہیں تھی۔ وہ اور اُن کے تمام اہلِ خانہ سادہ طرزِ زندگی کے حامل تھے۔

حسن نصراللہ 1960 میں بیروت کے ایک ایسے علاقے میں پیدا ہوئے تھے جہاں فلسطینی اور دروز باشندوں کے علاوہ آرمینیا سے تعلق رکھنے والے آرتھوڈوکس عیسائی بھی رہا کرتے تھے۔

حسن نصراللہ 16 سال کی عمر میں اسرائیل کے خلاف جدوجہد سے وابستہ ہوئے۔ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کے قبضے کو ختم ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ اسرائیلیوں کے خلاف مزاحمت کے لیے انہوں نے طلبہ تنظیموں کے پلیٹ فارم سے وابستگی اختیار کی اور پھر ہوتے ہوتے حزب اللہ کے سربراہ ہوگئے۔

حسن نصراللہ 2006 میں اسرائیل سے لڑائی کے بعد سے اب تک ڈھکی چھپی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ منظرِعام پر آنا پسند نہیں کرتے۔ حسن نصراللہ ایک اچھے مقرر ہیں۔ وہ اپنے زورِ خطابت سے سُننے والوں کے دل گرما دیتے ہیں۔

حسن نصراللہ کی اہلیہ کا نام فاطمہ یاسین ہے۔ اِن کے بڑے بیٹے اٹھارہ سالہ ہادی نے 1997 میں اسرائیلی فوج سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ہادی کی مناسبت سے حسن نصراللہ کی کنیت ابو ہادی ہے۔ حسن نصراللہ اور فاطمہ یاسین کے چار بچے ہیں جو اب خود بھی والدین بن چکے ہیں۔

جب حسن نصراللہ نے حزب اللہ ملیشیا کی کمان سنبھالی تب اِس کی طاقت میں اضافہ ہوا کیونکہ یہ حکومت کا حصہ بھی بنی۔ یوں اسرائیل بھی اس پر فوکس کرنے لگا۔

حسن نصراللہ کا اب تک کا آخری خطاب 19 ستمبر کا ہے جب انہوں نے پیجر دھماکوں کو اسرائیل کی طرف سے اعلانِ جنگ قرار دیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنی تنظیم اور اُس سے ہمدردی رکھنے والوں سے کہا تھا کہ وہ ایک بڑی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہوجائیں۔

حزب اللہ 1982 میں تنظیمِ آزادی فلسطین کے حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج کے لبنان پر حملوں کے بعد بنائی گئی تھی۔ حسن نصراللہ نے حزب اللہ کے سربراہ عباس الموسوی سے کمان لینے سے قبل لبنان کی مزاحمتی امل تحریک سے وابستگی اختیار کرکے چھاپہ مار جنگ کی تربیت پائی۔ حسن نصراللہ کی کمان میں حزب اللہ نے اسرائیل سے کئی بار کھل کر لڑائی کی ہے جس کے نتیجے میں وہ ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے