بھارت کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں ایک بار پھر بم دھماکوں کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ پولیس نے ویسے تو پورے شہر میں مذہبی مقامات کی نگرانی سخت کردی ہے تاہم مندروں کی انتظامیہ سے خصوصی طور پر کہا گیا ہے کہ مشکوک سرگرمیوں اور مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
شہر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی شر پسند حملے کرسکتے ہیں۔ مختلف اداروں کو دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئی ہیں۔ شہر کے طول و ارض میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جارہے ہیں۔
ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ حملوں کی دھمکیاں انفرادی حیثیت میں دی گئی ہیں یا پھر کوئی تنظیم یا انتہا پسند گروپ اس حوالے سے سامنے آیا ہے۔ پولیس کو غیر معمولی سطح پر چوکس رہنے کو کہا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے اہم ترین مقامات کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ معاملات کو زیادہ کھل کر اس لیے بیان نہیں کیا گیا کہ اس سے افراتفری پھیل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ممبئی میں کئی بار بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں۔ سب سے بڑے فسادات 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد اور 2006 میں ہوئے جب ممبئی پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے پورے شہر کو انتہائی خوفزدہ کردیا تھا۔ ان حملوں میں پاکستان کو ملوث قرار دیا گیا تھا تاہم اس الزام کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں بھارتی حکومت ناکام رہی تھی۔

