ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک “سرخ لکیر” کھینچتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مغرب نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کیے اور وہ روس کے اندر گہرائی میں حملے کرے، تو ماسکو جوہری ہتھیاروں سے جواب دے سکتا ہے۔
تاہم مغربی ممالک یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پیوٹن واقعی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا یہ محض ایک دھمکی ہے؟ یہ معاملہ جنگ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر یہ محض دھمکی ہے، تو مغرب یوکرین کی مزید فوجی حمایت بڑھا سکتا ہے۔ لیکن اگر پیوٹن سنجیدہ ہیں، تو اس کا خطرہ موجود ہے کہ یہ تنازعہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کا ماسکو پہلے ہی بار بار عندیہ دے چکا ہے اور واشنگٹن نے بھی اس امکان کو تسلیم کیا ہے۔
پیوٹن نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے ممکنہ حالات کی فہرست کو وسیع کرتے ہوئے کہا کہ روس بڑے پیمانے پر سرحد پار روایتی حملوں کا جواب دے سکتا ہے، چاہے وہ حملے طیاروں، میزائلوں یا ڈرونز کے ذریعے کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری طاقتوں کی جانب سے کسی ملک کی حمایت کو حملے کا حصہ سمجھا جائے گا۔
یہ حالات اس وقت بھی لاگو ہو سکتے ہیں اگر مغرب نے یوکرین کو امریکی اے ٹی اے سی ایم ایس اور برطانوی اسٹورم شیڈو میزائلوں کی مدد فراہم کی، جن کے لیے پیوٹن کے بقول مغربی اسیٹلائٹ اور ہدف بندی کی مدد درکار ہوگی۔
نکولائی سوکوف، سابق روسی سفارتکار، نے کہا کہ پیوٹن کا پیغام واضح ہے کہ مغرب ایسی غلطی نہ کرے، ورنہ جوہری جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ہنری جیکسن سوسائٹی کے جوہری تجزیہ کار بہرام غیاثی نے کہا کہ پیوٹن کی یہ دھمکی مغرب کے سامنے واضح انتباہ ہے کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے کے میزائل فراہم نہ کرے۔
کیف نے فوری ردعمل دیتے ہوئے پیوٹن کی اس دھمکی کو “جوہری بلیک میل” قرار دیا۔ یوکرین کے وزیر داخلہ کے سابق مشیر انتون گیراشچینکو کا کہنا تھا کہ یہ پیوٹن کی کمزوری کا اظہار ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال انہیں دنیا میں مکمل طور پر تنہا کر دے گا۔

