لبنان: اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں حزب اللہ نے حسن نصراللہ کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،جس کے بعد سینیئر رہنما نعیم قاسم کو عبوری سربراہ مقرر کردیا گیا ہے۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی، غزہ اور فلسطین کی حمایت، لبنان کے دفاع کیلئے اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز بیروت میں حزب اللہ کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس کا مقصد سید حسن نصراللہ کو نشانہ بنانا تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ نصراللہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں، جبکہ ان کی بیٹی زینب نصراللہ کی شہادت کا بھی ذکر کیا گیا۔ حزب اللہ نے دونوں کی شہادت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق نعیم قاسم نئے سربراہ کے انتخاب تک حزب اللہ کے معاملات سنبھال لیں گے، نعیم قاسم حزب اللہ شوریٰ کمیٹی کےمسلسل 3مرتبہ رکن رہ چکےہیں۔ جبکہ آئندہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا سربراہ منتخب کیے جانے کا قوی امکان ہے، ہاشم صفی الدین حسن نصراللہ شہید کے خالہ زاد بھائی اورداماد ہیں۔
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے میزائل یونٹ کے کمانڈر محمد علی اسماعیل اور ان کے نائب حسین احمد اسماعیل کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “حسن نصراللہ اب دنیا کو خوف زدہ نہیں کر پائیں گے۔”
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حسن نصراللہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی طیاروں نے گزشتہ روز بیروت میں 15 میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 6 عمارتیں تباہ، 8 افراد شہید اور 91 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حسن نصراللہ بمباری کا نشانہ بننے والی عمارت کی 14ویں منزل پر مقیم تھے۔
حسن نصراللہ گزشتہ تین دہائیوں سے حزب اللہ کے سربراہ رہے اور ان کی قیادت میں حزب اللہ اسرائیل کی ایک اہم مخالف قوت کے طور پر ابھری۔ وہ 1960 میں لبنان میں پیدا ہوئے اور 1992 میں صرف 35 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بنے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں اور خطے کی سیکیورٹی پر آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ایرانی سپریم لیڈر کو سخت حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا آغاز 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں ہونے والی جنگ کے بعد ہوا، جس کے دوران دونوں جانب سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔

