حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) کافی عرصے سے حیسکو سب ڈویژن ون قاسم آباد مسائل کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔ قاسم آباد کا رجسٹرڈ شکایتی مرکز کا پی ٹی سی ایل کنکشن دو سال سے بل ادا نہ کرنے پر بند پڑا ہوا ہے پہلے قاسم آباد کے صارفین کال پر بجلی کی خرابی رجسٹرڈ کراتے تھے لیکن دو سال سے فون کا بل ادا نہ کرنے پر یہ سہولت ختم ہو چکی ہے اب آپ کو رات کے کسی وقت سب ڈویژن قاسم آباد کے اندر اپنی شکایت دور کرانے کیلیے سب ڈویژن جانا لازمی ہو گا اور پہر رات کے مقرر لائن سپرنٹنڈنٹ رمیش کمار، لائن مین نثار بھٹی، کاشف کچھی اور پرائیوٹ لائن مین کی مرضی ہے کہ وہ کمپلینٹ پر جائیں نہ جائیں ان سے رات کے اوقات میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ میرے گھر کی بجلی کی شکایت پر کال کرکے نوٹ کرایا لیکن سب ڈویژن کا عملہ رات کو نہیں آیا اور کال کرنے پر صرف اور صرف آنے کا دلاسے دیتا رہا اور صبح 6 بجے جب میں سب ڈویژن پہنچا تو پتا چلا کہ صبع سات بجے جانے والے لائن مین ڈیوٹی رپورٹ دینے کے بجائے باہر سے ہی گھر روانہ ہو چکا تھا اور ہم واپس آگئے عوام کے مسائل کے حل سے رات کے عملے کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مہنگی بجلی کو استعمال کرنے اور 14گھنٹوں کی روزانہ اس گرمی میں لوڈ شیڈنگ ہونے سے قاسم آباد کے دکانداروں کا کاروبار تباہ، لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی گھریلو صارفین استعمال کرنے سے ذہنی مریص بن چکے ہیں۔ شکایت کرنے کے بعد بھی حیسکو آفس کے دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ یہ بات سماجی رہنما شاہد سومرو اور دیگر نے بیان کے ذریعے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاسم آباد کے آفس بھی زبوں حال ہیں جو 20 سال سے کوئی ریپر نہیں کیے جاتے۔ جبکہ حیسکو چیف کے واضح احکامات ہیں کہ تمام ایس ڈی او اپنی سب ڈویژن کے اندر 11بجے سے 01 بجے تک اپنی اپنی سب ڈویژن میں روزانہ کی بنیاد پر عوام کو ریلیف دینے کیلیے کھلی کچھری منعقد کریں پر بد قسمتی سے ایس ڈی او قاسم آباد کوئی بھی کھلی کچھری نہیں کرتے اور صرف دفتر ایک گھنٹہ بمشکل بیٹھ کر غائب ہو جاتے ہیں اس طرح قاسم آباد کے عوام بجلی کے مسائل پر ریلیف سے محروم بنے ہوئے ہیں۔ہم حیسکو چیف روشن اوٹھو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قاسم آباد شکایتی مرکز کے فون کو بحال کیا جائے اور رات کے اوقات میں شکایت حل نہ کرنے والے لائن مینوں کو تبدیل کیاجائے اور طویل لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور ایس ڈی او قاسم آباد کو روزانہ کھلی کچھری رکھنے کا دفتر میں پابند کیا جائے۔
