English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تمباکونوشی کی روک تھام کیلیے تیزی لانی ہوگی،اے آر آئی

القمر

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)الٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو(اے آر آئی) نے ملک بھر میں تمباکو نوشی کی روک تھام میں مؤثر خدمات و سہولیات کے سستے داموں فراہمی کی کوششوں مین تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے، اس وقت ملک میں تقریباً تین کروڑ دس لاکھ افراد مختلف شکلوں میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اے آر آئی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ارشد علی سید اور رومس بھٹی کی جانب سے یہ مطالبہ کیاگیا ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان میں صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے کینسر، دل اور پھپھڑوں سمیت مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، تمباکو کے استعمال کا مالی اور معاشرتی نقصان بھی بہت زیادہ ہے، صحت کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات اور لوگوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے کی وجہ سے ملک کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے، انہوں نے کہاکہ تمباکو نوشی ترک کرنے میں موثر خدمات و سہولیات کو مزید سستے داموں مہیا کرنے اور قابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس سلسلے میں مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے ایک سال میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار اموات ہوتی ہیں جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی 2019ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سیے پیدا ہونیو الی بیماریوں میں اموات سے ملک کو سالانہ 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، یہ رقم حکومت کی جانب سے تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونیو الے ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے، پائیڈ کے مطابق 2019ء میں تمباکو کی صنعت سے ٹیکس کی مد میں 120ارب روپے حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں لاکھوں افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں اور بہت سے تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے پاس حکومتی سطح پر کسی بھی قسم کی مدد موجود نہیں ہے، تمباکو نوشی ترک کرنے کے موثر پروگرام کسی حد تک کامیاب ثابت ہوئے ہیں مگر یہ بیشتر لوگوں کیلئے خصوصی طورپر دیہی علاقوںمیں ناقابل رسائی ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے