حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) محکمہ تعلیم کی جانب سے ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود تقررنامے نہ ملنے کے خلاف این ٹی ایس ٹیسٹ پاس پی ایس ٹی اور جے ایس ٹی اُمیدواروں نے پریس کلب پر احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے افسران کی نااہلی، لاپروائی کے سبب ضلع کے آئی بی اے ٹیسٹ پاس پی ایس ٹی اور جے ایس ٹی اُمیدوار تاحال تقررنامے نہ ملنے کے باعث پریشان ہیں، جبکہ محکمہ تعلیم حیدرآباد کے افسران کی جانب سے بھرتی کرنے کے لیے کسی بھی طرح کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں، ایس ٹی پاس اُمیدوار ڈی ای او پرائمری حیدرآباد اور ڈی ای او سیکنڈری کے دفاتر کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں، گزشتہ روز بھی تعلقہ حیدرآباد دیہی سے تعلق رکھنے والے پی ایس ٹی اُمیدواروں کی بڑی ایک تعداد نے نئی تجویز کردہ لسٹ لگوانے کے لیے ڈی ای او پرائمری حیدرآباد کے آفس پہنچے لیکن ڈی ای او پرائمری آفس میں موجود نہ ہونے پر اُمیدوار احتجاج پر مجبور ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ محکمہ تعلیم حیدرآباد کے افسران اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے اور 3 سال سے تقررنامے ملنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے اُمیدواروں کو بھرتی کرنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آرہے ہیں، اساتذہ کی قلت کے سبب اسکول کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اُمیدواروں نے بتایا کہ تعلقہ حیدرآباد دیہی میں 190کے قریب اُمیدوار تقررنامے ملنے کے انتظار میں ہیں لیکن محکمہ تعلیم حیدرآباد کے افسران کی لاپروائی کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال سے بھرتی کاعمل تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے اُمیدوار سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ای او پرائمری نے ڈیڑھ ماہ قبل وعدہ کیا تھا کہ 7 روز کے اندر نئی تجویز کردہ لسٹ لگا کر تقررنامے جاری کر دیے جائیں گے لیکن تاحال لسٹ نہیں لگائی گئی اور ہم روز دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ اُمیدواروں نے مطالبہ کیا کہ تقررنامے جاری کر کے اُمیدواروں کو پریشانی سے بچایا جائے۔
