اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن ڈی چوک اسلام آباد میں پاورشو کیلئے پہنچے لیکن مقامی انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں اور پولیس کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد گرفتار کرلیے گئے، کچھ مقامات پرپولیس پی ٹی آئی کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کررہی ہے جبکہ کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوکر راستے میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوششیں کرہے ہیں، حالات کشیدہ ہونے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا قافلہ کنٹینر ہٹا کر براہمہ پہنچ چکا ہے تاہم پولیس کی شدید شیلنگ کے باعث قافلہ وہیں پھنس گیا ہے۔
مظاہرین نے شیلنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے گرین ایریا کو آگ لگا دی۔ ڈی چوک میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مزید شیلنگ کی۔
ڈی چوک پر صورتحال سنگین
مظاہرین کے مسلسل دباؤ کے باوجود اسلام آباد کی پولیس نے ڈی چوک کو مکمل سیل کر دیا ہے اور مختلف مقامات پر گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔ کم از کم 30 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں۔
شہر کے داخلی اور خارجی راستے سخت ترین ناکہ بندی کے ساتھ بند ہیں اور پولیس کی بھاری نفری جگہ جگہ تعینات ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی چوک پہنچنے والے پی ٹی آئی کارکنوں بشمول خواتین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
پولیس کی وارننگ اور حکومت کا ردعمل
وزیر داخلہ کی جانب سے تحریک انصاف کو ایک بار پھر خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سختی سے کارروائی کریں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت نے ڈی چوک تک ہر صورت پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ چھچھ تک پہنچ چکا ہے، جہاں کارکن ان کے انتظار میں موجود ہیں۔ پنجاب پولیس کی غیر موجودگی کے باعث موٹر وے پر رکھے گئے کنٹینرز کو کرینوں کے ذریعے ہٹا دیا گیا ہے۔
گرفتاریاں اور سیکیورٹی انتظامات
آئی جی اسلام آباد علی ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک 30 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور مزید گرفتاریوں کا عمل جاری ہے۔ اسلام آباد کی سڑکیں اور داخلی راستے بند کر دیے گئے ہیں، شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی عمل کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں موٹر سائیکل سوار اور دیگر افراد شامل ہیں۔
پنجاب میں صورتحال
پنجاب کے 4 شہروں لاہور، راولپنڈی، اٹک اور سرگودھا میں بھی دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ راولپنڈی اور اٹک میں احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ وفاقی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا ہے تاکہ سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی حفاظت کی جا سکے۔
اسلام آباد مکمل سیل
احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ مری روڈ، فیض آباد اور دیگر اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ میٹرو بس سروس اور موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
شہر میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے سات خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
خواتین کارکنان کی گرفتاری
اسلام آباد میں احتجاج کے دوران پی ٹی آئی خواتین کارکنان نے بھی ڈی چوک کا رخ کیا، جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا۔
خواتین کے ہاتھوں میں پی ٹی آئی کے جھنڈے تھے اور وہ نعرے بازی کر رہی تھیں۔ پولیس نے متعدد خواتین کو گرفتار کر لیا ہے، جنہیں مختلف تھانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
احتجاج کا تسلسل
پی ٹی آئی کے قافلوں کا ڈی چوک تک پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں کارکنوں کو ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے مخصوص دستے قافلوں کے ہمراہ روانہ ہوں گے اور وہ راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کریں گے۔
اسلام آباد کی پولیس نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اقدامات کر رکھے ہیں اور شہر کے مختلف مقامات پر پولیس اور رینجرز کا گشت جاری ہے۔

