حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)صحافی گنگو مل پر قاتلانہ حملے کا کیس سول جج اینڈ جوڈیشنل مجسٹریٹ نمبر ون مٹیاری عامر رسول میمن کی عدالت نے سی آئی اے پولیس مٹیاری کی رپورٹ کو مسترد کرکے مرکزی ملزم فقیر داد کھوسو کا نام ایف آئی آر میں نامزد کرکے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا، عدالت میں سینئر صحافی گنگو مل کے وکیل ایڈووکیٹ محمد یوسف کلہوڑو، ایڈووکیٹ سجاد یوسف کلہوڑو نے دلائل دیتے ہوئے عدالت میں کہا کہ گنگو مل سینئر صحافی ہے اور ذمے دار شہری ہے حکومت اور ریاست کی طرف سے افغانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا جس کے بعد پ پ رہنما فقیر داد کوسو نے افغانیوں کے پاس پہنچ کر انکی مالکی کرنے کی یقین دہائی کرائی جسکی خبر صحافی گنگو مل نے شیئر کی جس کے بعد میونسپل کمیٹی بولھاڑی کے چیئرمین فقیر داد کھوسو نے پہلے دھمکیاں دیں اور فقیر دادکھوسو کے بھتیجے نے فیسبک میسنجرپر بھی دھمکیاں دی تھیں جس کے بعد کچھ نامعلوم لوگو نے حملہ کیا اور حملہ کرتے وقت ان لوگوں نے گنگو مل کو کہا تجھے ہم مارکر ہی جائیںگے، تم نے فقیر داد کھوسو کے خلاف کیسے خبر شیئر کی، وکلاء نے مزید دلائل دیے ،حملہ کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ملک اسد سکندر، ڈی آئی جی حیدرآباد کے دبائوپر مٹیاری پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے سے منع کردیا جس کے بعد عدالت کے حکم پر ایف آئی آر کاٹی گئی لیکن اسکے باوجود بااثر لوگو کے دبائومیں آکر مٹیاری پولیس بار بار جوابدار فقیر داد کھوسو کو ایف آئی آر سے نام نکال دیتی ہے ،دلائل سننے کے بعد عدالت نے سی آئی اے انچارج مٹیاری خادم بھٹی کی رپورٹ کو مسترد کردیا اورمیونسپل کمیٹی بولھاڑی کے چیئرمین فقیر داد کھوسو کو کیس میں نامزد کرکے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا۔
