پاراچنار: خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کرم میں قبائلی تنازعے کے دوران دو مختلف فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 11 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے۔
میڈیا زرائع کے مطابق، پہلا واقعہ کنج علی زئی کے پہاڑی علاقے میں پیش آیا جہاں شینک قبیلے کے شکاریوں کو مخالف قبائل نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت 5 افراد زخمی ہوئے۔ فائرنگ پہاڑوں اور قریبی سڑک پر ہوئی، اور زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ اس دوران علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔
دوسرا واقعہ بائی پاس کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے مقبل کی طرف جانے والی گاڑیوں پر فائرنگ کردی۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو اسپتال پاراچنار منتقل کیا گیا۔
پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

