کراچی: عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئندہ جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے ۔
تیل کے شعبے کے اندازوں کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 3 سے 4 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آئندہ جائزے میں ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر سے زیادہ کا اضافہ متوقع ہے۔
آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں قیمتوں میں اضافے کی توقعات کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات خصوصاً ایچ ایس ڈی کی مانگ میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تیل کے شعبے کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ایچ ایس ڈی کی مانگ میں اضافہ غیر متوقع ہے کیونکہ صنعتی یا زرعی شعبوں کی جانب سے مانگ میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر ڈیلرز کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات، خصوصاً ایچ ایس ڈی کو قیمت میں متوقع اضافے کی پیشگی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہے ۔
صنعتی ماہرین کا کہنا تھا کہ ایچ ایس ڈی کی روزانہ اوسط فروخت 16,000-17,000 لیٹر فی دن کے مقابلے میں بڑھ کر 24,000 لیٹر فی دن ہو گئی ہے۔
انہوں نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ حکومت کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے قانونی ایچ ایس ڈی کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ڈیلرز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی ہے جو قیمت میں متوقع اضافے سے قبل منافع زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایک ریفائنری کے اعلیٰ عہدیدار نے ایچ ایس ڈی کی فروخت میں حالیہ اضافے کی تصدیق کی ہے ۔
عدیدار کا کہنا تھا کہ ہم معمول سے زیادہ ایچ ایس ڈی فروخت کر رہے ہیں، لیکن ہمیں یقین نہیں ہے کہ آیا یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں یا ڈیلرز کی جانب سے قیمت میں اضافے سے قبل ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایچ ایس ڈی کی حقیقی مانگ قیمت فروخت میں اضافہ حقیقی مانگ کی وجہ سے تھا یا ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے جائزے کے بعد واضح ہو گی ۔
حالیہ مہینوں میں ملک کو کم استعمال کی وجہ سے ڈیزل کی سپلائی زیادہ رہی ہے۔ ایچ ایس ڈی کی مانگ 750,000 ٹن ماہانہ سے کم ہو کر صرف 500,000 ٹن رہ گئی ہے، جس کی وجہ کئی عوامل بشمول اسمگلنگ ہیں۔
“کم مانگ کے ساتھ، مقامی ریفائنریاں ملک کی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد آسانی سے پورا کر سکتی ہیں،” آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے کچھ عرصہ قبل حکومت کو ایک خط میں لکھا تھا۔
خط میں حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی کہ ایک نجی آئل مارکیٹنگ کمپنی کو ایچ ایس ڈی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
او سی اے سی نے کہا تھا کہ اضافی ایچ ایس ڈی درآمد کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، پھر بھی حالیہ مہینوں میں درآمدات کی اجازت دی گئی، جس کی وجہ سے مقامی ریفائنریوں کے لیے سنجیدہ مسائل اور آپریشنل چیلنجز پیدا ہو گئے ۔

