English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومتی مسودے میں آئینی عدالت کے قیام کی تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں 26 ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومتی مسودہ سامنے آ گیا ہے جس میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا فارمولہ سیاسی جماعتوں سے شیئر کیا گیا ہے۔

مجوزہ ترامیم کے تحت آئینی عدالت کے فیصلے کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جبکہ صوبائی آئینی عدالتوں کے فیصلوں پر اپیلیں وفاقی عدالت میں کی جا سکیں گی۔

آئینی عدالت کا قیام

حکومت نے مجوزہ مسودے میں ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں چیف جسٹس سمیت 7 ارکان شامل ہوں گے۔ اس عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر مملکت، وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے جبکہ دیگر ججز کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کے تحت ہوگا۔ اس کمیٹی میں 4 ارکان پارلیمنٹ، وفاقی وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کا نمائندہ شامل ہوگا۔

ججز کے تقرر کا طریقہ کار

وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تقرری کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کی سربراہی چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کریں گے اور اس میں آئینی عدالت کے پانچ سینئر ججز شامل ہوں گے۔ ججز کی اہلیت کے لیے عمر کی حد 40 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ امیدوار کے پاس 10 سالہ وکالت اور تین سالہ عدالت کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا۔

ججز کی برطرفی کا طریقہ کار

ججوں کی برطرفی کے لیے ایک وفاقی آئینی کونسل قائم کی جائے گی اور کسی بھی جج کی برطرفی کی حتمی منظوری صدر مملکت دیں گے۔ اس مجوزہ ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوگا، جس میں تین سینئر ترین ججز میں سے ایک کو چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔

پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس

دریں اثنا آئینی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم جے یو آئی نے مجوزہ ترامیم کی حمایت سے انکار کر دیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعتیں ایک پیج پر دکھائی دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے