
تائی پے (انٹرنیشنل ڈیسک) چین نے تائیوان کے ارد گرد فوجی مشقوں کے لیے اپنے طیارے اور بحری جہاز روانہ کر دیے ۔ بیجنگ نے اسے آزادی کے خواہاں افراد کے خلاف ایک سخت تنبیہ قرار دیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق چین کی فوج نے پیر کے روز سے تائیوان کے قریب فوجی مشقوں کا ایک نیا دور شروع کیا، جس کے بارے میں بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ تائیوان کی آزادی کی حامی قوتوں کی طرف سے علاحدگی پسندانہ کارروائیوں کے خلاف ایک تنبیہ ہے۔ ان فوجی مشقوں کے ختم ہونے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مشقوں کو جوائنٹ سورڈ 2024ء بی کا نام دیا گیا ہے ۔ چینی وزارت دفاع کے مطابق ان مشقوں کے ذریعے تھیٹر کمانڈ کے دستوں کی مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ ریاستی خودمختاری اور قومی یکجہتی کے تحفظ کے لیے یہ ایک ناگزیر آپریشن ہے۔ چینی فوج کی ایسٹرن تھیٹر کمانڈ کے ترجمان کیپٹن لی شی کے مطابق مشقیں تائیوان جزیرے کے شمال، جنوب اور مشرق کے علاقوں میں ہو رہی ہیں۔ کمانڈ نے بتایا کہ سمندری فضائی جنگی تیاری کے گشت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے چینی بحریہ کے جہاز اور جنگی طیارے مختلف سمتوں سے تائیوان کے کافی قریب پہنچ رہے ہیں۔ اس میں اہم بندرگاہوں اور علاقوں کی ناکا بندی، سمندری اور زمینی اہداف پر حملے کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہے۔ دوسری جانب تائیوان کی وزارت دفاع نے اسے غیر معقول اور اشتعال انگیز رویہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے آزادی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنے مطابق جواب دینے کے لیے مناسب فورسز روانہ کر دی ہیں اور تائیوان کی خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا۔ تائیوان کی حکومت نے یہ بھی کہا کہ چین کے تازہ ترین جنگی گیم اور طاقت کے استعمال سے دستبردار ہونے سے انکارعلاقائی امن اور استحکام کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ چین کی جانب سے سیاسی، فوجی اور اقتصادی خطرات کے باوجود تائیوان نہ تو پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی ہار مانے گا۔
