اسلام آباد (آن لائن+ صباح نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک) 26ویں آئینی ترامیم کے لیے قائم پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے مسودہ منظور کرلیا جسے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا،آرٹیکل 48 میں ترمیم بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت وزیراعظم، صدر اور کابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی کوئی بھی سمری منظور ہوگئی تو وہ آئندہ کبھی کسی بھی عدالت، کسی بھی ادارے یا کسی بھی اتھارٹی میں چیلنج نہیں ہوسکے گی ، مسودے میں اتحادی جماعتوں کی تجاویز شامل نہیں کی گئیں، اے این پی نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جبکہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے مسودے کی مخالفت کردی۔ آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بغیر کسی کارروائی کے آج صبح ساڑھے 9 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے جبکہ حکومت 26ویں آئینی ترمیم سینیٹ اجلاس میں منظوری کے لیے جمعہ کوبھی پیش نہ کرسکی۔ سینیٹ کا اجلاس بھی اب آج صبح 11بجے ہوگا۔ ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر مولانا فضل الرحمن سے اتفاق رائے ہوگیا ،عمران خان کی ہدایات کے بعد حتمی اعلان کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پی ٹی آئی کے رکن عامر ڈوگر، جے یو آئی ایف کی رکن شاہدہ اختر علی، ن لیگ سے عرفان صدیقی، ایم کیو ایم سے امین الحق، پی پی سے راجا پرویز اشرف اور شیری رحمن، رانا تنویر، سینیٹر انوشہ رحمن، چوہدری سالک حسین، اعجاز الحق، خالد حسین مگسی اور دیگر نے شرکت کی۔ پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر راجا پرویز اشرف نے صحافیوں کے سوال پر جواب دیا کہ بڑی اچھی اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ترامیم کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اجلاس شروع ہونے پر بیان میں پی ٹی آئی کے رکن عامر ڈوگر نے کہا کہ آئینی ترمیم حکومت کا کام ہے ہم سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، ہمارے کچھ ممبر پناہ لے رہے ہیں، چادر اور چاردیواری کو پامال کیا جا رہا ہے، زبردستی قانون سازی کرائی جا رہی، مولانا فضل الرحمن ہمارے موقف کے حامی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی ترمیم مجوزہ آئینی ڈرافٹ سے ڈراپ کردی گئی، عوامی نیشنل پارٹی کی ترامیم مجوزہ مسودے میں شامل نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کا نام تبدیل کرنے کی شق شامل نہ کرنے پر اسپیشل کمیٹی اجلاس سے بائیکاٹ کیا ہے اور ایمل ولی خان شریک نہیں ہوئے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کے نام سے خیبر نکال کر پختونخوا تجویز کیا تھا۔ بعدازاں کمیٹی نے ایک مشترکہ مسودہ تشکیل دیتے ہوئے اسے منظور کرلیا تاہم اس میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے اس مسودے کی مخالفت کردی۔ کمیٹی نے طے کیا کہ مسودہ کل منظوری کے لیے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا کابینہ سے منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں لایا جائے گا۔ حکومت نے قبل ازیں 56 نکاتی ایجنڈا پیش کیا تھا اور اب یہ 26 نکاتی رہ گیا ہے، اس میں آرٹیکل 48 میں ترمیم بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت وزیراعظم، صدر اور کابینہ کی جانب سے صدر کو بھیجی گئی کوئی بھی سمری منظور ہوگئی تو وہ آئندہ کبھی کسی بھی عدالت، کسی بھی ادارے یا کسی بھی اتھارٹی میں چیلنج نہیں ہوسکے گی اور اس پر کوئی تحقیقات نہیں ہوگی اور نہ اس کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی۔ آئینی بینچ سے متعلق تجویز منظور کی گئی ہے کہ 9 رکنی بینچ بنایا جائے جبکہ جوڈیشل کمیشن 13 رکنی ہوگا، 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی ہوگی جو چیف جسٹس کا تقرر کرے گی جس میں 8اراکین قومی اسمبلی اور 4 اراکین سینیٹ سے ہوں گے، چیف جسٹس کی مدت ملازمت 3 سال ہوگی، 3 سینئر ججز کے نام تعیناتی کے لیے بھیجے جائیں گے۔ عدالت عظمیٰ میں آئینی بینچ تشکیل دیا جائے گا، آئینی بینچ کے ججز کا تقرر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کرے گا، آئینی بینچ میں تمام صوبوں سے برابر ججز تعینات کیے جائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کی مدت ختم ہونے پر نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک کام جاری رکھ سکے گا۔ کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، خصوصی کمیٹی کی جانب سے منظور کیے گئے مسودے کی منظوری کابینہ دے گی، سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق مجھے علم نہیں، مسودے کو منظور کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں شریک پی ٹی آئی کے رکن عامر ڈوگر نے مشترکہ منظوری کی خبر کو بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ منظوری کے وقت تحریک انصاف کی جانب سے میں نے مسودے کی مخالفت کی اس طرح جے یو آئی کی رکن شاہدہ رحمن نے بھی اتفاق نہیں کیا، ہمارا موقف تھا کہ مسودے سے متعلق منظوری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط ہے، کمیٹی سے کہا کہ حتمی منظوری کے لیے اڈیالہ جانا پڑے گا، کمیٹی نے ہماری تجاویز نظر انداز کر کے اپنے طور پر مسودہ منظور کیا، ریکارڈ پر رہنا چاہیے کہ پی ٹی آئی ٹی نے مسودے کی مخالفت کی ہے۔علاوہ ازیں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بغیر کسی کارروائی کے آج صبح سارٹھے 9 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئینی ترمیم کو منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور پھر امکان ہے کہ آج ہی اسے قومی اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔قبل ازیں حکومت 26ویں آئینی ترمیم سینیٹ اجلاس میں منظوری کے لیے جمعہ کوبھی پیش نہ کرسکی۔ سینیٹ کا اجلاس اب آج صبح 11بجے ہوگا۔ مزید برآں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے آئینی ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے تقریباً اتفاق رائے ہوگیا ہے اور اب عمران خان کی ہدایات کے بعد کل حتمی اعلان کریں گے۔ بیرسٹر گوہر نے میڈیا نمائندوں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پی ٹی آئی اور اتحادیوں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات تھی، اس ملاقات میں ہم نے 26 ویں آئینی ترمیم پر بات چیت کی، گزشتہ ملاقات پر اس بات کا امکان تھا کہ اتفاق رائے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات چیت ابھی چل رہی ہے، ہمارا ووٹ یا اس پر اتفاق رائے ہوگا تو ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے، ان کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھیں گے، آج عمران خان سے ملاقات کی کوشش کریں گے اور عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہم اپنا حتمی مؤقف دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور بحث ہوئی ہے اور ہم تقریباً اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی کمیٹی میں ہماری طرف سے عامر ڈوگر اور جمعیت علمائے اسلام کا نمائندہ بھی موجود تھا اور انہوں نے جو مسودہ پیش کیا ہے اور کمیٹی نے جس مسودے کی منظوری دی ہے وہ یہی ہے جس پر ہمارے مذاکرات مولانا فضل الرحمن سے چل رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امید ہے آج عمران خان سے ہدایات کے بعد ہم حتمی اعلان کریں گے لیکن آج مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تقریباً اتفاق رائے ہوگیا ہے اور یہ ہم عمران خان کے سامنے رکھیں گے اور ان کی جو بھی ہدایات ہوں گی اس سے آج آگاہ کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران بلاول زرداری بھی آئے تھے اور مولانا فضل الرحمن نے انہیں وقت دیا اور ہماری بھی دعا سلام ضرور ہوئی لیکن مسودے پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
