ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کا عمل نہ صرف سندھ کے خلاف سازش ہے بلکہ یہ ملک توڑنے کی سازش لگتی ہے، پالیسی ساز جعلی اسمبلیوں کے ذریعے صوبوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی فیصلے کر رہے ہیں جس سے وفاق کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سندھ بچاؤ تحریک کے رہنماؤں نے ٹھٹھہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے کہا کہ ایک طرف پنجاب کے ویران علاقوں کو آباد کرنے کے لیے دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں تو دوسری طرف آباد علاقوں کو بنجر بنایا جا رہا ہے، پالیسی سازوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس قسم کے فیصلے کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے چند جرنیلوں کے ساتھ ایوان صدر میں بیٹھ کر چولستان کی 48 لاکھ ایکڑ اراضی کو آباد کرنے کے لیے دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں بنانے کی منظوری دی ہے جسے سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے، جی ڈی اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صفدر عباسی نے کہا کہ دریائے سندھ کے کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہ چھوڑنے سے سندھ کی ساحلی پٹی کا 40 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر آب آ گیا ہے، اگر سندھ پر نئی نہریں بنتی ہیں تو نہ صرف کوٹری بیراج بلکہ سکھر اور گڈو بیراج بھی متاثر ہوں گے اور سندھ بنجر بن جائے گا، پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر ڈاکٹر مسرور سیال نے کہا کہ ادارے ملک توڑنے کی سازش کر رہے ہیں، ایک طرف بلوچستان میں تحریک آزادی زور پکڑ رہی ہے تو دوسری جانب کے پی کے میں بھی جرگے ہو رہے ہیں، اس وقت پنجاب کے عوام پر ظلم و بربریت کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور سندھ کو خشک کرنے کے لیے دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالی جا رہی ہیں، 200 ارب سے زائد کا بجٹ منظور ہوا، ایسے فیصلوں سے وفاق کمزور ہوگا، اداروں کو سوچنا چاہیے کہ یہ صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے کا وقت ہے، اس موقع پر نیشنل پیپلز پارٹی کے مسرور خان جتوئی، جماعت اسلامی کے عبدالقدوس احمدانی، فنکشنل لیگ کے وقار جٹ، ایس یو پی کے ضلعی صدر عمران خشک، ف لیگ کے ضلعی صدر ایاز قریشی، جماعت اسلامی کے عبدالمجید سموں، نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں سمیت قومی عوامی تحریک، جے یو آئی، عوامی جمہوری پارٹی کے رہنما و دیگر بھی موجود تھے۔
