اترپردیش:بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک اور مسلم کش فساد کی سازش کی جارہی ہے۔ اس بار اتر پردیش کے شہر بہرائچ کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ بہرائچ میں 13 اکتوبر کو درگا پوجا کے پنڈال پر حملے میں ایک ہندو نوجوان مارا گیا تھا۔ پولیس اس سلسلے میں 87 افراد کو حراست میں لے چکی ہے مگر اس کے باوجود کشیدگی ختم نہیں ہو پارہی۔
بہرائچ کی صورتِ حال کشیدہ رکھی جارہی ہے۔ مسلمانوں کی املاک پر حملے ہو رہے ہیں اور بعض مقامات پر ہندوؤں کی دکانوں اور مکانوں کو بھی لُوٹ کر اس کا الزام مسلمانوں کے سر تھوپا جارہا ہے۔ مقامی انتظامیہ انتہا پسند ہندوؑں کا ساتھ دے رہی ہے۔ صورتِ حال ایک ہفتے سے خراب ہے اور انتظامیہ معاملات کی درستی کے حوالے سے اقدامات سے گریز کر رہی ہے۔
گزشتہ روز ایک آٹو شو روم کو مشتعل افراد نے جلا ڈالا۔ اس شو روم میں پاکستانی ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ کی موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔ شہر کے مسلم علاقوں میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ بہت سے علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں کیونکہ لوگ ڈر کے مارے دکانیں نہیں کھول رہے۔

