واشنگٹن: امریکا کے ایوان نمائندگان کے 60 سے زائد ارکان نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنائیں ۔
سابق وزیراعظم عمران خان، جو کہ گزشتہ سال اگست سے توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں، نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان کانگریس نے صدر بائیڈن سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی پالیسی میں انسانی حقوق کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت پر دباؤ ڈال کر سیاسی قیدیوں کی رہائی، بشمول سابق وزیراعظم عمران خان، کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس خط میں امریکی سفارتی حکام سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کریں تاکہ ان کی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے عمران خان کی رہائی کے لیے اجتماعی طور پر آواز اٹھائی ہے۔ یہ بات امریکی رکن کانگریس گریگ کیسر نے کہی، جو اس خط کے مرکزی محرک تھے۔
گریک کیسر نے مزید کہا کہ عمران خان کی 2022 میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرفی کے بعد ان کے خلاف کئی مقدمات قائم کیے گئے، اور وہ اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔
خط میں امریکی انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ وہ عمران خان کی حفاظت اور قید کے دوران ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکومت سے ضمانت طلب کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ خط میں رواں سال کے اوائل میں ہونے والے پاکستانی انتخابات میں بے ضابطگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
حکومت پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے غیر منصفانہ سلوک کے الزامات کو مسترد کیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو بھی رد کیا ہے۔
واشنگٹن نے انتخابات کو آزاد اور شفاف قرار دینے سے انکار کر دیا، جب کہ برطانیہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے بھی ان انتخابات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں سزا کے بعد عمران خان کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا، جس کے باعث وہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔ تاہم ان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحاد بنا کر حکومت تشکیل دی۔

