English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کینیڈا کے دروازے بھی غیر ملکی ورکرز پر بند ہونے لگے

کینیڈا کے وزیرِاعظم نے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کسی بھی معاشی سرگرمی میں ملازمت کے لیے سب سے پہلے کینیڈا کے شہریوں کو ترجیح دی جائے گی۔ تاجروں اور صنعت کاروں سے کہا جائے گا کہ وہ غیر ملکی ورکرز پر انحصار کم کردیں۔

کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت اسٹوڈنٹ ویزا پر کینیڈا میں قیام کرنے والوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جن لوگوں کو پہلے سے پرمٹ جاری کیے جاچکے ہیں اُن کے لیے بھی مواقع محدود ہوں گے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کینیڈا کے شہریوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا گراف نیچے لانا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں جسٹن ٹروڈو نے لکھا ہے کہ ہم کینیڈا کی سرزمین پر غیر ملکی طلبہ اور ورکرز دونوں کی تعداد گھٹانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انقلابی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے لکھا ہے کہ کینیڈین کمپنیوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ اگر وہ غیر ملکی ورکرز کو زیادہ تعداد میں ملازمت فراہم کریں تو مقامی لوگوں کو ملازمت نہ دینے کا جواز بھی پیش کریں۔

کینیڈا نے چند ماہ کے دوران اپنی امیگریشن پالیسی میں بھی ایسی تبدیلیاں کی ہیں جن کے تحت غیر ملکیوں کو کینیڈا کا رخ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے لیے مواقع گھٹائے جارہے ہیں۔ کینیڈا میں مستقل رہائش کے خواہش مند افراد کی حوصلہ شکنی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ان اقدامات سے سب سے زیادہ بھارتی باشندے متاثر ہوں گے کیونکہ بھارت یہ ٹرینڈ پایا جاتا ہے کہ کسی نہ کسی طور امریکا، کینیڈا یا پھر یورپ میں کہیں سیٹل ہوا جائے۔ بھارت کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے کہا ہے کہ کینیڈا میں مستقل رہائش اختیار کرنے والوں کی تعداد میں کمی لائی جارہی ہے۔ گزشتہ برس یہ تعداد 4 لاکھ 85 ہزار تھی۔ رواں سال یہ تعداد 3 لاکھ 95 ہزار رہے گی۔ اگلے سال یہ تعداد 3 لاکھ 80 ہزار اور 2026 میں 3 لاکھ 65 ہزار رہنے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے