کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کاکہنا ہےکہ گیس کمپنی نے بھی کے الیکٹرک کی طرح مختلف بہانوں سے اضافی وصولیاں شروع کر دی ہیں، سوئی سدرن کمپنی گیس کا تباہ حال انفرا اسٹرکچر بہتر کرے، شہریوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائے۔
سوئی سدرن گیس ( ایس ایس جی سی) ہیڈ آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کرونیکل بیفل کے نام پر ڈھائی ہزار کا مزید اضافی ٹیکس بلز میں لگادیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے بلوں میں بھاری بھرکم ٹیکسز کا خاتمہ ہونا چاہیے،فکس ٹیکس چار سو بڑھا کر ہزار روپے کردیا گیا ، جو ظلم ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کے خلاف آج ہم ایس ایس جی سی دفتر آئے تھے، کراچی میں پچانوے فیصد کنزیومر اپنے بلز ادا کرتے ہیں، حکومت نے کے الیکٹرک کو ایک سو چوہتر ارب روپے کی سبسڈی دی پھر حکومت ایس ایس جی سی کو سبسڈی کیوں نہیں دیتی ؟
انہوں نے مزیدکہاکہ اسٹریٹ کریمنلز کا آزادنہ گھومنا سندھ حکومت ، سندھ پولیس اور لاء انفورسمنٹ اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھارہا، آئی جی صاحب دعوہ کرتے کہ کراچی سے پچاس فیصد کرائم کم ہوگیا ہے،رپورٹ بتاتی کہ رواں سال اب تک پچپن ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، حکومت نے کے الیکٹرک کو مزید سات سال کے لئے ٹیرف کی منظوری دی۔
منعم ظفر کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں دو ہزار کے بلز اب سات سات ، آٹھ آٹھ ہزار کے آرہے، جنریشن ٹیرف سات سال کے لئے کے الیکٹرک کا منظور کیا گیا ہے، کے الیکٹرک کو اب ڈالرز کی مد میں نوازہ جائے گا،کے الیکٹرک کی اجارہ داری کا خاتمہ ہونا چاہیے، نیپرا ، کے الیکٹرک اور حکومت کا شیطانی ملاپ ہے کراچی میں اسٹریٹ کرائم بے قابو ہے ۔

