
غزہ /تل ابیب/بیروت/دوحا(آن لائن/صباح نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی فوج کے رہائشی عمارت پر حملے میں‘109 فلسطینی شہید ہوگئے‘ صہیونی کیپٹن سمیت 4 اہلکار مارے گئے ۔ شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی 5 منزلہ رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 109 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق غزہ کے شمالی علاقے میں حماس کے ساتھ ہونے والی دوبدو جھڑپ میں اسرائیل کے کیپٹن سمیت 4 فوجی مارے گئے جب کہ ایک شدید زخمی ہوا‘غزہ میں12ہزار طلبہ شہید،سیکڑوں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے۔لبنان کی وزارت صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ وادی البقاع میں اسرائیلی بمباری سے 60 لبنانی شہید اور58 زخمی ہو گئے ہیں۔ العربیہ کے مطابق لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیل نے البقاع وادی کے 12 مختلف علاقوں میں بمباری کی ہے ، جس سے 2 بچوں سمیت 60لبنانی شہید ہوئے اور 58زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کا شکار فلسطین کے علاقے غزہ میں جنگ بندی کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا تاہم اس حوالے سے پیش رفت کی امیدیں بہت کم ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر بیل بیرنز نے دوحا میں قطری وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی اور موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا سے بھی ملاقات کی تھی۔ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے 8 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں 28 روزہ جنگ بندی اور درجنوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تجویز رکھی۔ توقع ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی جنگ بندی تجویز پر قطری اور مصری مذاکرات کار آئندہ چند دنوں میں حماس کے ذمے داران کے ساتھ ملاقات میں انہیں راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ بجٹ تجاویز میں فوج کے لیے مختص بجٹ میں تقریباً 200 فیصد اضافے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومتی ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل سے جنگ کے آغاز کے بعد سے دفاعی اخراجات میں 200 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے‘ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے باعث تناؤ بڑھ رہا ہے۔ قطری وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد سے انہوں نے حال ہی میں دوحا میں حماس رہنماؤں کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا، اسرائیل میں قید فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کو امداد کی فراہمی اور جنگ کے خاتمے کے مطالبات پر قائم ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی پر پابندی کا بل منظور کرلیا۔ عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اقدام سے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کا پہلے سے کمزور عمل مکمل طور پر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے فلسطین میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی ’انروا‘ پر پابندی کے اسرائیلی فیصلے کو بچوں کے قتل عام کا نیا طریقہ قرار دے دیا۔ ایک بیان میں یونیسیف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انروا کے بغیر غزہ میں جان بچانے والے سامان کی فراہمی جاری نہیں رکھ سکتے۔ جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقا نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے کی گئی نسل کشی کے ثبوت بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جمع کرادیے ہیں۔ ایوان صدر نے کہا کہ اس دستاویز میں ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کس طرح غزہ میں نسل کشی کے عالمی کنونشن کی خلاف ورزی کررہا ہے‘ ان شواہد میں غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کو ممنوعہ ہتھیاروں سے مارنا، انسانی امداد تک رسائی سے محروم کرنا، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، جبری نقل مکانی کے ذریعے غزہ پر قبضہ کرنا شامل ہے۔ لبنان اور غزہ کے لیے 17ویں امدادی کھیپ منگل کی صبح کراچی سے روانہ کردی گئی۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق منگل کو جناح انٹر نیشنل ائرپورٹ کراچی سے امدادی سامان کی17ویں کھیپ روانہ کر دی گئی، ہوائی جہاز 17 ٹن امدادی سامان لیکر بیروت پہنچ گیا۔ امدادی کھیپ میں ادویات، تیار کھانا، چاول، خیمے، گرم کپڑے اور خشک دودھ شامل ہیں۔
