English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ڈاکٹرشاہنوازقتل کی سماعت

القمر

میرپورخاص(نمائندہ جسارت)میرپورخاص پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے عمرکوٹ کے رہائشی ڈاکٹر شاہنواز کنمبھر کے کیس میں نامزد ملزمان میرپورخاص کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہوئے عدالت میں پیش ہونے والوں میں پیر عمرجان سرہندی جبکہ عمرکوٹ کے سابق ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، سابق ایس ایچ او سندھڑی نیاز کھوسو، سی آئی اے کے سابق انچارج عنایت علی زرداری، سابق ڈی آئی بی انچارج دانش بھٹی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جن کی ضمانت میں 16 نومبر تک توسیع کر دی گئی جبکہ گرفتار سب انسپکٹر ہدایت اللہ ناریجو، پولیس اہلکار فرمان، نادر اور غلام قادر کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے انہیں 16 نومبر تک جیل بھیج دیا ڈاکٹر کی نعش کو جلانے کے کیس میں گرفتار 18 ملزمان میں مولوی احمد شاہانی، مولوی ریاض پنہور، شیر علی سمیجو، محبوب ساند، غلام مجتبیٰ پنہور، نور حسن پنہور، غمشاد پنہور، محمد سیفل پنہور، مولوی امجد، لکمیر، ارشد سمیجو شامل ہیں۔ ، علیم سمیجو، فقیر محمد پلیجو، محمد سلیم ساند، بدرالدین پنہور، عبدالغفار رانگڑ، داؤد پنہور اور معشوق خاصخیلی کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے تمام ملزمان 20 نومبر تک جیل بھیج دیا اس موقع پر ڈاکٹر شاہنواز کے کیس کی پیروی کرنے والے بیرسٹر اسد اللہ شاہ راشدی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے ایک اور ایف آئی آر درج کی ہے جس میں ہم نے وہی مؤقف رکھا ہے جو ایف آئی آر سندھڑی پولیس اسٹیشن میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایف آئی اے میں نئی ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پچھلی ایف آئی آر کی کیا حیثیت ہو گی اس حوالے سے عدالت نے ہم سے رائے مانگی ہے جو آئندہ سماعت پر پیش کی جائے گی جس کے بعد ملزمان کی ضمانت کے بارے میں فیصلہ ہو گا انہوں نے کہا کہ بعض ملزمان کے وکلا پیش نہیں ہوئے اور کچھ اور قانونی اور تکنیکی مسائل تھے جس کی وجہ سے آج کی سماعت ملتوی کی گئی انہوں نے کہا کہ سابق ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی میرپورخاص کی ضمانتیں نہیں ہوئیں اور پولیس کی جانب سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے عدالت کے باہر پیر عمر جان سرہندی کے وکیل کامران بھٹی نے کہا کہ ایف آئی اے نے الگ ایف آئی آر درج کی ہے عدالت نے سوال اٹھایا کہ ایف آئی آر کس قانون کے تحت درج کی گئی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے صرف ایف آئی اے سے تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے ایف آئی اے سے نئی ایف آر درج کرنے سے متعلق پوچھا ہے جس پر ایف آئی آئی حکام نے اس حوالے سے عدالت سے وقت مانگا ہے اور وہ آئندہ سماعت پر اپنا مؤقف پیش کریں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے