لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے بلوچستان میں ہونے والے خودکش حملے میں قیمتی جانوں کے ضائع پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقع کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گردی کے واقعے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے پیچھے ملک دشمن قوتیں بالخصوص بھارت کے ہاتھ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مکمل تحقیقات کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران بلوچستان میں 120افراد شہید جبکہ دو برسوں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے مجموعی طور پر دو ہزار75 واقعات ہوئے جن میں 37سو سے زائد نہتے اور معصوم افراد شہید ہوئے۔رواں سال ان واقعات کی تعداد 561رہی اور شہید ہوئے والے افراد 886ہیں۔عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا حکومت اور قانون فانذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور اس کو یقینی بنانا ہو گا۔ ’’سیکورٹی بریک‘‘ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے حکومت پاکستان بھارت کے گھنائونے چہرے کو بے نقاب کرے، اگر بھارت اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں بھجوانا چاہتا تو اس کے بغیر ہی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جائے۔دنیا کو یہ بات باور کروانا ہو گی کہ پاکستان 25کروڑ عوام کا ملک ہے جہاں سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت دی جا سکتی ہے اور نہ ہی امن کے ساتھ کسی کو کھیلنے دیا جائے گا۔ قیام امن کے لیے ملک و قوم نے بے شمار قربانیاں دیں ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ملک و قوم اس وقت نازک دور سے گزر رہے ہیں بحران دن بدن سنگین ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ حکمرانوں کی ترجیحات میں عوامی مسائل کا حل شامل ہی نہیں، ڈنگ ٹپاؤ اقدامات اور اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے قانون سازی کر کے اس بات کے تاثر کو حقیقت میں تبدیل کر دیا ہے کہ حکمرانوں کا ایجنڈا محض لوٹ مار کرنا اور اپنے کرپشن کرنے کے راستوں کو ہموار کرنا ہے۔ نیب سمیت تمام اینٹی کرپشن کے ادارے انتقامی کارروائیوں کی تکمیل کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جاری کردہ
