English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ لبنان میں مزید 63 شہید،حزب اللہ کے اسرائیلی عسکری اڈوں پر حملے

القمر

غزہ /تل ابیب /بیروت /واشنگٹن /تہران (صباح نیوز /مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ اورلبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید63شہری شہیدہوگئے۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اتوار کو مزید 13 بچوں سمیت 32 شہری شہید ہوگئے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کے شمال میں جبالیہ میں علوش خاندان کے گھر پر قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اتوار کی صبح13 بچوں سمیت32 شہری شہید ہوگئے۔دوسری جانب غزہ سے تعلق رکھنے والے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں 2 بھائیوں سمیت مزید 4 صحافی شہید ہوگئے۔ ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق شہید صحافیوں میں شامل زہرا محمد ابو شکیل اور احمد محمد ابو شکیل سگے بھائی تھے، الجزیرہ کے مطابق غزہ پر اکتوبر2023ء سے جاری حملوں میں شہید صحافیوں کی تعداد 188 سے بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب لبنان میں بھی اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، اے ایف پی کے مطابق بیروت کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مشرقی لبنان کے کئی علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 31 لبنانی شہید اور 14 زخمی ہوگئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) برائے فلسطینی مہاجرین کے سربراہ فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ شمالی غزہ میں انسانی ساختہ قحط کا خطرہ ہے اور اسرائیل پر ایک بار پھر الزام عاید کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں پر بمباری کے دوران بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں غزہ میں امداد کی محدود رسائی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوسطاً 30 ٹرک امداد روزانہ کی ضروریات کا صرف 6 فیصد ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر حملے کا اعتراف کرلیا۔اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں اور حسن نصراللہ پرحملوں کے پیچھے اسرائیل تھا۔یہ پہلی بار ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ امریکا نے نیا پینڈورا باکس کھول دیا‘ ٹرمپ پر حملے کا الزام ایران پر عاید کر دیا جبکہ ایران نے امریکی الزام کی تردید کی ہے۔ امریکا نے الزام عاید کرتے ہوئے دعویٰ ہے کیا کہ نومنتخب صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں ایران ملوث ہے، ایران میں مقیم افغان شہری فرہاد شاکری کو پاسداران انقلاب نے ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے قتل کی سازش میں ملوث تہران میں مقیم افغان شہری فرہاد شاکری پر فرد جرم عاید کردی، ایران کے لیے سہولت کاری پر 2 امریکی شہریوں پر بھی فرد جرم عاید کی گئی ہے، دونوں امریکی شہری حراست میں ہیں۔ دوسری جانب ایران نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش کے الزام کو مسترد کردیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کا بھونڈا الزام عاید کیا جا رہا ہے ۔ امریکا نے اسرائیل کو 130 بلڈوزر اور بھاری بموں کی فراہمی روک دی ہے‘ اسرائیل یہ بلڈوزر غزہ کی پٹی میں گھروں کو منہدم کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع نے امریکی مشینری بنانے والی کمپنی کیٹرپیلر سے تقریباً 130 ڈی 9 بلڈوزر خریدنے کے بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ میڈیا نے اسرائیلی سیکورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے حال ہی میں غزہ میں گھروں کو مسمار کرنے کے لیے ان بلڈوزروں کے استعمال کی وجہ سے معاہدے کو منجمد کر دیا ہے، اس معاہدے کو منجمند کرنے پر امریکا پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل پہلے ہی بلڈوزر کی ادائیگی کر چکا ہے اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے برآمدی منظوری کا انتظار کر رہا ہے‘ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہے جب اسرائیل کو بلڈوزر کی اشد ضرورت تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں میں مصروف ہے اور خطے میں استعمال کے لیے اضافی ڈی نائن بلڈوزر کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ بلڈوزر کی کھیپ بند ہونے سے جنوبی اسرائیل میں غزہ اور نیگیو کے درمیان بفر زون بنانے کے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے، جس میں غزہ کی سرحد کے ساتھ زرعی علاقوں کو صاف کرنا اور سیکڑوں فلسطینی عمارتوں کو منہدم کرنا شامل ہے۔ صیہونی فورسز کے حملوں میں اب تک43 ہزار سے زاید فلسطینی شہید جبکہ ایک لاکھ سے زاید زخمی ہو چکے ہیں، ایک سال سے کم عمر 825 بچوں سمیت شہدا میں17ہزار 385 بچے بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے