امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس کے سابق ڈائریکٹر کمیونی کیشن جمال سِمنز نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کملا ہیرس کو شکست دے کر دوسری بار امریکی صدر منتخب ہونے کا اعزاز تو پالیا ہے تاہم جو بائیڈن اب بھی چاہیں تو تاریخ رقم کرسکتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں جمال سِمنز نے کہا کہ کملا ہیرس ملک کی پہلی صدر بننا چاہتی تھیں اور یہ کام اب بھی ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہلیری کلنٹن کو ہرایا تھا اور اب کملا ہیرس کو شکست دی ہے۔ یوں ان دونوں کی پہلی امریکی خاتون صدر بننے کی کوشش ناکام رہی مگر جو بائیڈن یہ کام کرکے ٹرمپ کو نیچا دکھاسکتے ہیں۔ کملا ہیرس کے پاس اب بھی موقع ہے کہ ملک کی پہلی صدر بنیں۔
جمال سِمنز نے کہا کہ صدر بائیڈن کی صحت خراب ہے۔ وہ نقاہت محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے میں اُن کے پاس منصب چھوڑنے کا باضابطہ جواز بھی موجود ہے۔ وہ چاہیں تو دو ماہ سے بھی زائد مدت کے لیے صدر کا منصب چھوڑ کر کملا ہیرس کو ملک کی پہلی باضابطہ صدر بننے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ اور یہ کام اُنہیں کرلینا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی انا کو ٹھیس پہنچے گی۔
جمال سِمنز نے کہا کہ صدر بائیڈن کا یہ تاریخی اقدام تادیر یاد رکھا جائے گا۔ کملا ہیرس نے اگر دو ماہ کے لیے بھی امریکی صدر کا منصب سنبھالا تو اُن کا نام تاریخ میں درج ہو جائے گا جس طور جیرالڈ فورڈ کا نام لوگوں کو یاد رہ گیا۔
جمال سِمنز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ الیکشن جیت چکے ہیں۔ ان کا صدر بننا تو طے ہے مگر اِس سے قبل صدر بائیڈن کے پاس بھی ایک بڑا آپشن موجود ہے۔ انہوں نے صدر کی حیثیت سے بیشتر وعدے پورے کیے ہیں۔ اب اگر وہ امریکی آئین کی دی ہوئی گنجائش کے تحت مستعفی ہوکر کملا ہیرس کو صدر بننے کا موقع دیں تو اُن کا نام بھی تاریخ میں رقم ہوجائے گا۔ کملا ہیرس کو ابھی ایک کڑوی گولی نگلنی ہے۔ انہیں اپنی شکست اور ٹرمپ کی فتح کے کاغذات پر دستخط کرنے ہیں۔ اگر وہ صدر بن جائیں تو ایک طرف تاریخ رقم ہوگی اور دوسری طرف اُن کی اشک شُوئی بھی ہو جائے گی۔

