ماسکو : روس نے یوکرین پر حالیہ ہائپرسونک میزائل حملے کو مغربی ممالک کے لیے ایک سخت پیغام قرار دیا ہے کہ ماسکو یوکرین کی حمایت میں کسی بھی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کا جواب سختی سے دے گا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ حملہ اس بات کا اظہار ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو میزائل فراہم کرنے اور روسی سرزمین پر حملوں میں ملوث ہونے کا روس خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔
روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے اس حملے کو یوکرین کے لیے امریکی اور برطانوی میزائلوں کے استعمال کے جواب میں جائز قرار دیا، جس کے بعد امریکا اور برطانیہ پر روس کی براہ راست جنگ میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا۔
پیسکوف نے واضح کیا کہ روس نے حملے سے 30 منٹ قبل امریکا کو آگاہ کر دیا تھا، حالانکہ یہ میزائل درمیانے فاصلے کا تھا، بڑے پیمانے پر علاقوں کو ہدف بنانے والے میزائل بھی داغے جا سکتے ہیں ۔
پوٹن نے اس میزائل حملے کو یوکرین کے شہر ڈنیپرو میں میزائل اور دفاعی صنعت کو نشانہ بنانے کے طور پر بیان کیا ۔ روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس میزائل کے تمام وار ہیڈز نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور یہ اس کا پہلا کامیاب تجربہ تھا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو “شدید شدت میں اضافے” کا باعث قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے سخت مذمت کی اپیل کی ہے ۔
پیسکوف نے کہا کہ روس بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن امریکا کی موجودہ حکومت “شدت پسندی کی راہ اختیار کر رہی ہے” اور انہیں پوٹن کے ستمبر میں دیے گئے انتباہ کو سنجیدہ لینا چاہیے تھا ۔

