لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گرڈ اسٹیشن کی مہنگی ترین بجلی کے استعمال میں کمی کے باعث بجلی صارفین پر 200 ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈال دیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، حکومت نے آئی پی پیز کا پیٹ بھرنے کے لیے عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا، کپیسٹی چارجز کے نام پر عوام سے پہلے ہی 2800 ارب روپے سالانہ وصول کیے جا رہے ہیں، اس پر مستزاد غیر اعلانیہ 200 ارب کا مزید بوجھ شرمناک اقدام ہے، شمسی توانائی کے استعمال کے رجحان میں اضافے کے باعث گرڈ پر انحصار کرنے والے صارفین کے بجلی نرخوں میں 2 روپے فی یونٹ اضافہ حکومت فوری واپس لے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں کی منصفانہ تقسیم اور گرڈ کا استحکام یقینی بنانے کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سستی بجلی پیدا کرے، مہنگے بجلی گھروں، آئی پی پیز سے نجات حاصل اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے، بد قسمتی سے ملک پر ایسے حکمران قابض ہیں جو عوام کے بجائے اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، ان کے نزدیک عوام محض کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ کچھ نہیں، ایسے ظالم حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر تشویشناک ہے کہ پاکستان میں سالانہ فی کس آمدن، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں علاقائی ممالک میں سب سے پیچھے ہے، اس وقت پاکستان کی فی کس آمدن 1587 ڈالر ہے جبکہ بنگلا دیش میں 2624 ڈالر، بھارت میں 2698، سری لنکا کی 3929، نیپال کی 4062 ڈالر ہے، عوام کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان میں 3.20 ڈالر یومیہ سے کم کمانے والی آبادی کی شرح جو 2021 میں 38 فیصد تھی گزشتہ برس 42.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں ایک کروڑ کا اضافہ ہوا ہے، یہ المیہ ہے کہ ایک جانب حکومت معاشی اشاروں میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا واویلا کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں صورتحال مختلف ہے۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے، حکومت کی جانب سے روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال نا قابل فہم اور مایوس کن ہے، حکومت اپنے لیے خود مسائل پیدا کر رہی ہے، گزشتہ 18 ماہ کے دوران حکومت نے احتجاج اور دھرنے روکنے کی غرض سے قومی خزانے سے 2 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کر دیے، نا اہلوں کے ٹولے میں صلاحیت نام کی کوئی چیز نہیں۔
