English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خیبرپختونخوا کی نگراں حکومت میں 1.9ارب کی کرپشن کا انکشاف

القمر

 

پشاور (اے ایف بی) خیبرپختونخوا میں نگران حکومت کے دوران محکمہ صحت میں ادویات کی خریداری میں خورد برد سے متعلق کمیٹی کی سفارشات وزیراعلیٰ کو پیش کر دی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 4.4 ارب روپے کی ادویات کی خریداری میں 1.9 ارب کی خورد برد کی نشاندہی کی گئی ہے، 1.86 ارب کی خریداری غیر ضروری اور غیر ایمرجنسی آئٹمز کی مد میں کی گئی جن کی ڈیمانڈ بھی نہیں تھی، 3.17 ارب کے ادویات و آئٹمز اور میڈیکل سامان چند مراکز میں تقسیم کیا گیا جس میں 1.08 ارب مالیت کا سامان صرف 6 میڈیکل مراکز میں تقسیم کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شمالی وزیر ستان کو ادویات و میڈیکل آئٹمز کی بہت بڑی کھیپ بغیر کسی ضرورت کے ترسیل کی گئی، ان غیر ضروری آئٹمز میں گانز، ڈسپوزیبل او ٹی شیٹ اور دستانے شامل تھے۔ 81 فرمز کو ابتدائی طور پر سلیکٹ کیا گیا جبکہ رقم کی تقسیم اور ادویات صرف 14 فرمز سے خریدی گئیں، زیادہ تر ادویات کی خریداری بغیر معائنے کے کی گئی جس کی وجہ سے ناقص ادویات عوام کو دی گئیں، ترسیل اور ادائیگی سے پہلے ڈرگ ٹیسٹ کی رپورٹس کو بھی نظر انداز کیا گیا، 5 کروڑ کی ادویات ایک ایسی فارما کمپنی سے لی گئی جن کے ادویات کے سب اسٹینڈرڈ ہونے کی رپورٹ موجود ہیں، ٹرانسپورٹیشن کے مد میں بے جا اخراجات کیے گئے، بلوں کی ادائیگی میں غیر متعلقہ اداروں کو استعمال کیا گیا، پرچیز آرڈرز کو مختص کردہ تخمینہ جات سے زیادہ کرکے خزانے پر بوجھ کو بڑھایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق فیکٹری قیمت کے بجائے 10 فیصد سے 45 فیصد زائد ریٹیل قیمت پر ادویات کو خریدا گیا، پالیسی کے اندر ڈرگ ٹیسٹنگ کی شرط کو جان بوجھ کر ختم کیا گیا جس سے غیر معیاری ادویات کی خریداری ممکن بنا دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نیب پشاور نے اس ضمن میں پہلے سے ہی ایک انکوائری کا حکم دے رکھا ہے، اس لیے نیب کے قانون کے مطابق انکوائری رپورٹ کے ساتھ تمام ریکارڈ بھیجنے کو کہا گیا ہے تاکہ لوٹی ہوئی رقم کو ریکور اور ملوث افراد کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے، کمیٹی نے حکومت کو 2015 کی ادویات کی خریداری کی پالیسی میں چند تبدیلیاں لانے کے بعد کابینہ سے منظور کروانے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی سفارشات بھی پیش کیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے