نواب شاہ (نمائندہ جسارت)ضلعی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دی رہائشی عمارتوں کا استعمال تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہونے لگا ایف بی آر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں کی وجہ سے دکانداروں نے کمرشل ٹیکس بچانے کے حربے شروع کر دیے ضلعی انتظامیہ کی لاپرواہی شہری پریشان ٹریفک کے مسائل سنگین صورتحال اختیار کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق نواب شاہ شہر میں کمرشل سرگرمیوں کیلئے استعمال ہونیوالے رہائشی گھروں کو دکانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے خلاف ضابطہ کمرشل سرگرمیوں پر مجموعی طور پر سپریم کورٹ کے احکامات پر پابندی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ نے اس جانب آنکھیں موند لی ہیں یہی وجہ ہے کہ شہری محلوں میں آتشی کارخانے جن میں صابن گھی مٹھائی اور دیگر اشیا کے کارخانے ہیں کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جبکہ تنگ گلیوں میں بھی گھر گودام دوائیوں کنفکشنری اشیا خورونوش کے ساتھ ساتھ کاسمیٹکس کے گودام اور دفاتر موجود ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک میں مسلسل خلل تو پڑھتا ہے وہیں علاقہ مکینوں کو زندگی دشوار ہو رہی ہے۔ شہری انتظامیہ ایک طرف تو تجاوزات کے خاتمے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتی نظر آتی ہے لیکن با اثر افراد کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آتی ہے انتظامیہ اس سلسلے میں نہ تو ان کو نوٹس جاری کرتی ہے اور نہ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتی ہے جس کی وجہ سے یہ دوکان دار ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر اور کارخانے دار ٹیکس بچا کر قومی خزانے کو بری طرح سے نقصان پہچا رہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف وزری کرتی نظر آرہی ہے اگر ان پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں تو ضلعی آمدن میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اسکولوں کارخانوں گوداموں کے لئے استعمال ہونے والی رہائش گاہوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے اور ان پر بھی بھاری جرمانے عائد کئے جائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی رہائشی عمارت کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کر سکے اور اگر ان اداروں نے اس کے باوجود عمارات خالی نہ کیں تو ان کے خلاف ضابطہ کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
