راولپنڈی:اڈیالہ جیل میں بانی تحریک انصاف سمیت دیگر100 رہنماؤں پر 9 مئی کو جنرل ہیڈ کوارٹر ( جی ایچ کیو ) حملہ کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی جبکہ اپوزیشن لیڈر عمرایوب کو اڈیالہ جیل سے باہر آتے ہی پولیس نے گرفتار کرلیا، جس پر عدالت نے پیش کرنے حکم دیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار ہونے والے رہنما ؤں کے گرفتار ہونے کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے عمر ایوب سمیت دیگر رہنماؤں کو فوری طور پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔
عمرایوب کے ساتھ گرفتار ہونے والے رہنماؤں میں سابق صوبائی وزیر پنجاب راجہ بشارت، ملک احمد چٹھہ، ماجد دانیال اور عظیم الدین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔
خیال رہے کہ عمر ایوب سمیت پی ٹی آئی رہنما جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے اڈیالہ جیل آئے تھے، باہر نکلتے ہی پولیس نے تمام رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔
ایوب عمر کے وکیل فیصل چوہدری نے پولیس کو عدالتی احکامات دکھاتےہوئے بتایا کہ تمام رہنماؤں نے قبل از وقت گرفتاری ضمانت لی ہوئی ہے، پولیس نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو حراست میں رکھا گیا ہے، بتایا جارہا ہے کوئی سرگودھا، فیصل آباد اور گوجرانوالا کے مقدمات ہیں، لیکن ابھی تک واضح نہیں ہوئے کہ کون سے مقدمات میں گرفتار کیا گیاہے۔
واضح رہےکہ عدالت نے بغاوت، دہشتگردی، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر سازشوں کے الزامات پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کی ہے، فرد جرم عائد کیے جانے کے موقع پر بانی پی ٹی آئی، شیخ رشید، صداقت عباسی، عمر ایوب، زرتاج گل، شیخ راشد شفیق، واثق قیوم عباسی، ملک احمد چٹھہ، راجا بشارت، عثمان ڈار، اشرف خان سوہنا سمیت دیگر عدالت موجود تھے۔

