نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست آسام میں حکومت نے گائے یا بھینس کے گوشت سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی بھی ریستوران یا ہوٹل میں گائے یا بھینس کا گوشت نہیں ملے گا ۔ اس کے ساتھ ہی اسے عوامی تقریب یا کسی عوامی جگہ پر بھی کھانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دہلی میں آسام حکومت کی کابینہ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں کئی وزرا وڈیو کانفرنسگ کے ذریعے شامل ہوئے۔ اس موقع پر بیف پر مکمل پابندی لگانے سے متعلق سخت فیصلہ کیا گیا۔ ہیمنت بسوا سرما کا کہنا تھا کہ ہم آسام میں 3 سال قبل گاؤ کشی روکنے کے لیے قانون لائے تھے۔ اس قانون کے باعث گاؤ کشی کو روکنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آسام میں کسی بھی ریستوران یا ہوٹل میں بیف نہیں رکھا جائے گا۔تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ انتہاپسند مودی سرکار نے گئو رکھشا کے نام پر مسلمانوں پر زمین تنگ کررکھی ہے۔ آسام کی حکومت نے حالیہ فیصلہ کرکے جنونی ہندوؤں کی مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ اس سے قبل سیکڑوں واقعات میں ہندوؤں کی جانب سے بے گناہ مسلمانوں کو گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں قتل کیا جاچکا ہے۔
