حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر کامریڈ غلام مصطفی چانڈیو اور عوامی تحریک ضلع قمبر شہداد کوٹ کے صدر امداد پٹھان نے شہداد کوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چولستان کینال کی تعمیر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، وفاقی حکومت آئین توڑ کر چولستان کینال کا معاملہ دوبارہ ایکنک میں بھیج رہی ہے، وفاقی سرکار ایکنک کے میٹنگ منٹس تبدیل کر کے چولستان کینال کی دھوکے اور فراڈ سے منظوری لینا چاہتی ہے، ایکنک اور سی ڈی ڈبلیو پی سمیت کسی بھی ادارے کو سندھ کی اجازت کے بغیر دریائے سندھ پر کوئی کینال یا ڈیم تعمیر کرنے کا اختیار نہیں ہے، موجودہ حکومت طاقت کے زور پر زبردستی چھے نئے کینال تعمیر کر رہی ہے، حکومت عوام کے بجائے کارپوریٹ فارمنگ کمپنیوں کی نمائندہ حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانی پر لگنے والے ڈاکے، زمینوں پر قبضے اور لاقانونیت کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے 22 دسمبر کو سکھر میں ریلی نکالی جائے گی، ریلی میں سندھ کے عوام کو بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی، بلدیہ فیکٹری میں 266 مزدوروں کو زندہ جلانے والے دہشت گرد 12 سال سے قانون کی گرفت سے آزاد ہیں، بلاول، شہباز اتحادی حکومت بھی ضیائی آمریت کے اُصولوں پر عمل پیرا ہیں، جیسے ضیاء الحق نے سندھ کے دیہات میں ڈاکو اور شہروں میں دہشت گرد پیدا کیے، موجودہ حکومت نے بھی جنرل ضیاء کے انہی اُصولوں پر عمل کرتے ہوئے سندھ کو بے امنی کے دلدل میں دھکیلا ہے، سندھ میں اغوا، ڈکیتی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی مکمل ذمہ دار بلاول، شہباز اتحادی حکومت ہے۔
