English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شام سے فرار ہونے والے بشار الاسد  کا پہلا بیان سامنے آگیا

شام پر 24 برس تک آمرانہ حکومت کرنے والے بشار الاسد  کا ملک سے فرار کے بعد پہلا بیان سامنے آ گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ملک سے فرار ہوکر روس جانے کے بعد بشار الاسد نے پہلا بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ملک چھوڑنا کسی منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ جب تک باغیوں نے دارالحکومت دمشق کا محاصرہ نہیں کیا، اس وقت تک حکومت چھوڑنے یا پناہ لینے پر کبھی غور نہیں کیا گیا۔ اس دوران کسی فرد یا جماعت کی طرف سے ایسی کوئی تجویز بھی پیش نہیں کی گئی۔

شام سے فرار ہونے والے بشار الاسد نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی کہ جب دارالحکومت باغیوں کے قبضے میں آ گیا تو وہ صوبہ لاذقیہ میں روسی فوجی اڈے میں چلے گئے تھے، جہاں وہ جنگی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ شامی فوجیوں نے پوزیشنیں چھوڑ دی ہیں اور روسی اڈہ مسلسل ڈرون حملوں کا نشانہ بن رہا تھا۔ اس وقت انہیں محسوس ہوا کہ جب ریاست دہشت گردوں کے کنٹرول میں آ جاتی ہے، تو اس وقت عہدوں کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔

بشار الاسد نے مزید کہا کہ جب ان کی ریاست دہشت گردی کے ہاتھوں میں آ گئی تو روس نے فیصلہ کیا کہ وہ انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے دمشق سے ماسکو لے جائے۔

واضح رہے کہ یہ بیان شامی صدارتی دفتر کے ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کیا گیا ہے، تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فی الوقت چینل کو کون چلا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے