واشنگٹن/صنعا/ غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ حماس نے میرے حلف اْٹھانے کے دن 20 جنوری سے قبل اسرائیلی یرغمالی رہا نہ کیے تو قیامت ٹوٹے گی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تسلی دی کہ میں 20 جنوری کو حلف اْٹھاؤں گا پھر غزہ اور اسرائیلی یرغمالیوں کے
معاملے کو دیکھیں گے۔فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ میرے منصب سنبھالنے تک اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے نہیں پاتا تو پھر جو ہوگا وہ قطعی طور پر خوشگوار نہیں ہوگا۔ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ میں حماس کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ 20 جنوری کو میرے حلف اْٹھانے سے قبل اسرائیلی یرغمالی رہا کردیں ورنہ ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔یاد رہے کہ بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل پہلی بار غزہ جنگ بندی معاہدے کے طے پانے کے قریب ترین مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔جوبائیڈن انتظامیہ کی بھی کوشش ہے کہ وہ ٹرمپ کی مداخلت سے قبل ہی غزہ جنگ بندی معاہدے پر فریقین کو راضی کرنے میں کامیاب ہوجائیں تاکہ اس کا سہرہ ٹرمپ نہ لے سکیں۔علاوہ ازیں اسرائیل نے وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ بندی کیلیے مصر روانہ ہونے کی خبروں کی تردید کردی جس کے بعد جنگ بندی کا امکان ختم ہوگیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی قاہرہ میں غزہ جنگ بندی کے لیے روانہ ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مصر نہیں جارہے اور نہ ہی جنگ بندی کے حوالے سے کوئی غور کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں مصدقہ ذرائع سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ غزہ جنگ بندی کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم مصر جائیں گے اور وہاں پر دونوں فریق جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کریں گے جس میں اتفاق ہونے کا امکان ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کو ذرائع نے بتایا تھا کہ جنگ بندی معاہدے پر نیتن یاہو دستخط کریں گے۔جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں عمارت گرنے سے 2 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں اسرائیلی فوج کا ریزرو میجر اور ریزرو اسٹاف سارجنٹ شامل ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے جاری لڑائی میں اب تک 818 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے 386 غزہ میں ہلاک ہوئے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کا بتانا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے کے دوران مجموعی طور پر 5 ہزار 490 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب شمالی غزہ میں بھی اسرائیلی فوج پر فلسطینی مزاحمت کاروں کے شدید حملے جاری ہیں۔ علاوہ ازیں یمن سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد تل ابیب ائرپورٹ کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق یمن سے تل ابیب اور اسرائیل کے وسطی علاقوں پر میزائل داغے گئے۔ میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بجائیگئے۔ تل ابیب ایئرپورٹ کو بھی عارضی طور پر بند کردیا گیا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن سے بحیرہ روم کے اوپر آنے والے ڈرون کو مار گرایا گیا۔ ڈرون کو اسرائیلی بیٹرے میں میزائل سے لیس کشتی کے پہنچنے سے قبل ہی تباہ کردیا گیا۔حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 ء کو کیے جانے والے غیر معمولی حملے کے بعد سے حوثی گروپ ’’ انصار اللہ‘‘ ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے اسرائیل پر حملے کر رہا ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
