English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عراق ، اجتماعی قبر سے 100خواتین اور بچوں کی لاشیں بر آمد

عراق میں برآمد ہونے والی اجتماعی قبر کے گرد کھدائی کا کام جاری ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراقی حکام نے اجتماعی قبر سے 100 سے زائد خواتین اور بچوں کی باقیات نکالنے پر کام شروع کردیا،جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں سابق صدر صدام حسین کے دور میں 1980 ء کے عشرے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ قبر جنوبی عراق کے صوبے مثنیٰ کے علاقے تل الشیخیہ میں مرکزی شاہراہ سے تقریباً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر دریافت ہوئی ۔ اجتماعی قبروں کے امور سے متعلق عراقی اتھارٹی کے سربراہ دیا کریم نے کہا کہ خصوصی ٹیموں نے رواں ماہ اس قبرکی کھدائی شروع کی جو ابتدائی طور پر 2019 ء میں دریافت ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس جگہ دریافت ہونے والی دوسری ایسی قبر ہے۔ مٹی کی پہلی تہ کو ہٹانے کے بعد اور باقیات واضح طور پر نظر آنے کے بعدپتا چلا کہ وہ سب موسم بہار کے کرد لباس میں ملبوس، خواتین اور بچوں کی باقیات تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ممکنہ طورپر تعلق شمالی صوبے سلیمانیہ کے علاقے کلر سے تھا، جو اب عراق کے خود مختار کردستان کے علاقے کا حصہ ہے ۔ 1980 ء کی دہائی میں ایران کے ساتھ عراق کی ہلاکت خیز جنگ کے بعد حکومت نے 1987 ء اور 1988 ء کے درمیان انفال آپریشن کیا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار کردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ قبر میں پائے جانے والے متاثرین کی بڑی تعداد کو قریب سے سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کوزندہ دفن کیا گیا ہو کیونکہ ان کی باقیات میں گولیوں کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے