کوئٹہ (نمائندہ جسارت) جمعیت علما ء اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ اسلامی فلسفہ معیشت انسانیت کے سامنے آنے والا قدیم ترین اور اولین معاشی فلسفہ ہے سرمایہ دارانہ فلسفہ معیشت اسلام کے معاشی تصورات کو بگاڑ کر تخلیق کیا گیا اور اشتراکی معاشی فلسفہ سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم اور جبر کا غیرمتوازن اور جزباتی ردعمل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں جمعیت طلبا اسلام بلوچستان کے زیرِ اہتمام تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔نشست سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ اشتراکی نظام میں مزدور و محنت اور سرمایہ دارانہ معیشت میں سرمایہ دار اور سرمایہ کو اولیت دی جاتی ہے جبکہ اسلام کے معاشی تعلیمات میں صارف کی ضرورت اور جانداروں کی ضروریات کی تکمیل میں معاونت فراہم کرنے کو اہمیت دی جاتی ہے چنانچہ عاریت صدقہ قرض حسنہ اور وقف جیسے مد کا تصور صرف اسلامی تعلیمات کے ساتھ ہی مخصوص ہے انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ معیشت اور اشتراکی فلسفہ دونوں نظام طبقاتی مفادات کے محافظ اور نگران ہیں جس طرح سرمایہ دار ایک طبقہ ہے اسی طرح مزدور بھی طبقہ ہی ہے چنانچہ اشتراکیت کے جانب سے طبقاتی سسٹم کی مخالفت کے دعوے میں بظاہر معقولیت نظر نہیں آتی انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ بعض امور میں اشتراکیت اور کچھ حوالوں سے کیپیٹل ازم اسلام کے ساتھ متفق ہیں لیکن ان مشترکات کو بنیاد بناکر نہ تو اسلام کو اشتراکیت کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ اسے نتھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام مارکیٹ کے مکمل آزادی پر یقین رکھتا ہے جبکہ اشتراکیت میں مارکیٹ کو مکمل طور پر حکومتی کنٹرول اور پابندی میں دیا جاتا ہے اسلامی معیشت کے نزدیک یہ دونوں طریقے افراط اور تفریط پر مبنی ہیں اور ان کے برعکس اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ اگر لوگ پیسہ کے کمانے اور لگانے میں قانون اور عدالت کو برقرار رکھتے ہوں تو حکومت کوئی مداخلت نہیں کر سکتی لیکن اگر بے اعتدالی بے انصافی اور تجاوز نظر آئے تو اس صورت میں مارکیٹ کی قوتیں آزاد نہیں ہوں گی اور حکومت کو مداخلت کا حق ہوگا۔
