حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام سے 11 مہینے قبل تبادلہ کیے گئے ملازمین حیدر بخش جونیجو، محمد بخش مشوری، شاہد مشوری، سلیم لانگاہ، نظام بھٹی اور پریل سومرو سمیت دیگر ملازمین نے تبادلے منسوخ کیے جانے کے لیے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ اس موقع پر ملازمین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنوری سے یونیورسٹی ٹنڈو جام انتظامیہ نے ہماری تنخواہیں بند کر دیں اور یونیورسٹی سے ہمارا جبری تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ملازمین فاقہ کشی اور بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں، جبکہ اسکولوں کی فیسیں ادا نہ کیے جانے کے سبب ہمارے بچوں کی تعلیم بھی تباہ ہو رہی ہے اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوانے کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں، ہمارے بچوں کا سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ بھرتی ہونے والے من پسند ملازمین کے تبادلے منسوخ کر کے واپس رکھ لیا، لیکن ہمارے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے تبادلے منسوخ کر کے ٹنڈوجام زرعی یونیورسٹی میں دوبارہ مقرر کیا جائے۔
