لاہو ر (نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں 2024ء کے انتخابات ،سیاست ،جمہوریت ،پارلیمان اور عدلیہ کے لیے بڑی بدنامی کا باعث بنے ۔2024 ء بڑے مسائل 2025ء کو سونپ کر رخصت ہو گیا 2024ء میں پاکستان عوامی مسائل بڑھے اور عوام کے سیاسی جمہوری بنیادی حقوق سکڑ گئے ۔ بلوچستان میں معدنیات پر وفاقی حکومت صوبہ بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لے ،کرم امن معاہدہ انسانی المیے کا سدباب ہوگا۔ مدارس رجسٹریشن آرڈیننس کو بلا تاخیر قانون میں لایا جائے۔نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس 6 جنوری 2025ء کو لاہور میں طلب کرلیا گیا ہے۔ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس کے میزبان علامہ زاہد محمود قاسمی ہوںگے۔ مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اتحادِ اُمت، کُرم پارا چنار، بلوچستان صورتِ حال اور ملک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد اور فلسطین وکشمیر کی صورتِ حال کے جائزہ اور لائحہ عمل سے متعلق فیصلے کرے گا۔ نائب صدور، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور صوبائی صدور اجلاس میں شریک ہوںگے۔لیاقت بلوچ نے منصورہ میں بلوچستان کے طلبہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی معدنیات قومی اثاثہ ہیں اور اس پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے۔ ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز کی سعودی عرب کو فروخت پر سب کو اتفاق ہوسکتا ہے لیکن بلوچستان کی معدنیات پر بلوچستان کے عوام کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ وفاق اپنے اقدامات سے صوبوں کے اعتماد کو پارا پارا کرنے کے بجائے وفاق کی مضبوطی کے لیے باہمی اعتماد کے رشتے کی مضبوطی پر مبنی اقدامات کرے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ کُرم اور بلوچستان میں امن کا قیام قومی سلامتی کے لیے ناگزیر اور امن سے ہی ملک دشمن قوتوں کو شکست فاش ہوگی۔ کُرم میں بلاتاخیر امن معاہدہ سنی شیعہ آبادی کے لیے ناگزیر ہے،امن معاہدے سے انسانی المیوں کا سدباب ہوگا۔ امن جرگے کے متفقہ فیصلوں پر سو فیصد عملدرآمد یقینی بنانا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے۔ حکومتوں اورسیکورٹی اداروں کا جانبدارانہ کردار حالات کی خرابی کا بڑا سبب بنتا ہے۔لیاقت بلوچ نے علما کرام کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس رجسٹریشن مسئلہ آرڈی ننس کے نفاذ سے عارضی بنیادوں پر حل ہوگیا لیکن مدارس رجسٹریشن پر لٹکتی تلوار کے مستقل خاتمے کے لیے اتفاقِ رائے کے اُمور کو قانون کی شکل دی جائے (جیساکہ مدارس رجسٹریشن بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوچکا تھا)، وگرنہ ایڈہاک ازم پر مبنی اقدامات نے پہلے بھی حالات کو خرابیوں سے دوچار کیا۔ مدارس کے نتظمین کو یہ امر تسلیم کرلینا چاہیے کہ اُن کے درمیان اختلافات اور انتشار کا تمام تر فائدہ حکومتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی آستینوں میں موجود لادین سیکولر قوتوں کو سنسنی کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔فلسطین اور کشمیر کی صورتِ حال پر سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی مظالم، بمباری اور نسل کشی بڑا المیہ بن گئی ہے۔ فلسطین غزہ کو نظرانداز کرکے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں پورا عالم اسلام بحران زدہ رہے گا اور باری باری مسلم ممالک بحرانوں اور خطرات سے دوچار کیے جائیں گے۔ عالم اسلام کی قیادت اسرائیلی سفاکیت اور اس کے مذموم توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف بند باندھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ 2024ء انتخابات ملک میں استحکام لانے کے بجائے سیاست، جمہوریت، پارلیمان اور عدلیہ کے لیے بڑی بدنامی کا باعث بن گیا ہے۔ سال 2024ء بڑے بڑے مسائل سال 2025ء کی طرف منتقل کرکے رُخصت ہوگیا ہے، سال 2024ء میں سیاسی عدم استحکام ختم نہ ہوسکا، عوام کے مسائل بڑھ گئے اور عوام کے سیاسی، جمہوری بنیادی حقوق سکڑ گئے۔ سیاسی جمہوری قادت سیاسی بحرانوں کے خاتمے کے لیے بااعتماد قومی سیاسی ڈائیلاگ کو نتیجہ خیز بنانے میں ناکام رہی۔ پوری قوم کے لیے عزمِ نو اور تجدیدِ عہد کے ساتھ سال 2025ء میں پاکستان کو آئینی، سیاسی اقتصادی اور نظامِ عدل سے متعلق استحکام دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم قومی جوہری کردار ادا کرنا ہے۔
