English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مندر گرانے کا حکم : دہلی کے گورنر اور وزیرِاعلیٰ میں ٹھن گئی

بھارت کی ریاست دہلی کے گورنر کے دفتر سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ گورنر نے کسی بھی مسجد، مندر یا چرچ کو گرانے کا حکم جاری نہیں کیا۔ اس حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں یکسر بے بنیاد ہیں۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ آتشی کا کہنا ہے کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے ایک مندر گرانے کا حکم دیا ہے۔ گورنر نے اِس الزام کو گھٹیا سیاست سے تعبیر کیا ہے۔

دہلی کے گورنر وی کے سکسینہ کے حوالے سے وزیرِاعلیٰ آتشی نے منگل کو یہ خبر جاری کی تھی کہ انہوں نے ہندوؤں کے ایک مندر اور بُدھسٹوں کے ایک پگوڈا کو گرانے کا حکم دیا ہے۔

لیفٹننٹ گورنر سکسینہ کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہلی کی منتخب حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کر پارہی اور اب اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے اشتعال انگیز باتیں کر رہی ہے، الزامات عائد کر رہی ہے۔ گورنر سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ کسی بھی مندر یا کسی اور معبد کے گرانے کے حوالے سے اُسے کوئی فائل نہیں ملی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔

دہلی کے گورنر نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اُن سیاسی عناصر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے غلط بیانی سے بھی کام لے رہے ہیں، پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ نے گورنر کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ آپ کی ہدایت پر مذہبی کمیٹی نے دہلی میں مختلف مذاہب کی متعدد عبادت گاہیں منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیرِاعلیٰ نے اس سلسلے میں ویسٹ پٹیل نگر، دلشاد گارڈن، سندر نگری، سیما پوری، گوکل پوری اور عثمان پور میں متعدد عبادت گاہوں کی فہرست بھی منسلک کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے