نئے سال کی آمد کا جشن انتہائی بے ہودہ طریقے سے منانا اب ایشیائی معاشروں میں بھی ایک عمومی بات ہے۔ ہمارے ہاں بھی نئے سال کی آمد پر اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والے کم نہیں اور بھارت میں یہ رجحان زوروں پر ہے۔ بھارت کی ریاست اتر پردیش میں نئے سال کی آمد پر جشن منانے والی ایک فیملی کو جشن کے دوران ہی قتل کردیا گیا۔
لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں نئے سال کا جشن منایا جارہا تھا۔ ارشد اپنی ماں اور چار بہنوں کے ساتھ اس جشن میں شریک تھا۔ اُنہوں نے ہوٹل میں ایک کمرا بھی بُک کروایا تھا۔ ہوٹل میں ارشد نے اپنی ماں اور چاروں بہنوں کو نئے سال کی آمد کی خوشی میں شراب پیش کی۔ سب نے خوب شراب پی۔ جب سبھی نشے میں چُور ہوگئے تب کسی بات پر جھگڑا ہوا اور 24 سالہ ارشد نے مشتعل ہوکر ماں اور چاروں بہنوں کو قتل کر ڈالا۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ارشد نے ماں اور بہنوں کو زہریلا کھانا کھلانے کے بعد شراب پلائی۔
پولیس نے ارشد کو گرفتار کرلیا۔ پانچوں لاشیں خون میں لت پت ملیں۔ کسی کے ہاتھ کی نسیں کاٹی گئیں تو کسی کے گلے پر بلیڈ پھیردیا گیا۔ ارشد نے ماں اسما اور بہنوں کو (جن کی عمریں 9، 16، 18 اور 19 سال تھیں) قتل کرنے کے بعد وڈیو بیان ریکارڈ کیا جس میں اُس نے بتایا کہ پڑوسی اُن کی جائیداد ہڑپ کرنا چاہتے تھے اور اُس کی بہنوں کو بیچنے کی بھی تیاری کر رہے تھے۔ اُس نے وڈیو بیان میں ماں اور بہنوں کو بُرے انجام سے بچانے کے لیے اُس نے انہیں قتل کردینا بہتر جانا۔
پولیس نے اس کیس میں ارشد کے والد بدر کا نام بھی شک کی بنیاد پر درج کرلیا ہے۔ بدر مفرور ہے اور پولیس اس کی گرفتاری ممکن بنانے کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ یہ فیلی آگرہ کی ہے اور 30 دسمبر سے ہوٹل میں مقیم تھی۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان فخرالحسن چاند نے کہا ہے کہ شاید اس فیملی کو بے روزگاری، افلاس اور ذہنی دباؤ کا سامنا تھا۔

