اسلام آباد:او جی ڈی سی ایل کی جانب سے ریکوڈک فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد تصدیق کی گئی ہے کہ اس ضمن میں 627 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے ریکوڈک منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرلی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں 627 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ریکوڈک منصوبے کو پاکستان میں دنیا کے سب سے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر کو ترقی دینے کی کوششوں کا اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کا ریکوڈک منصوبے میں حصہ 8.33 فی صد ہوگا، جو دوسرے 2 سرکاری اداروں پی پی ایل (پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ 25 فی صد کا مشترکہ شیئر بنتا ہے۔
علاوہ ازیں ریکوڈک میں 25 فی صد حصہ بلوچستان حکومت کا ہے اور بقیہ نصف (50 فی صد) حصہ بیریک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہے، جو کہ ریکوڈک منصوبے کی آپریٹر کمپنی بھی ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے پر بتایا گیا ہے کہ اس کی کان کنی کا دورانیہ مجموعی طور پر 37 برس پر محیط ہوگا اور اسے 2 مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے پر 5.6 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جس کا کام 2028ء میں شروع کردیا جائے گا۔ اس مرحلے کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض حاصل کیا جائے گا اور بقیہ رقم دیگر شیئر ہولڈرز کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔
ریکوڈک منصوبے کے ابتدائی (پہلے) مرحلے میں 45 ملین ٹن خام میٹریل کو سالانہ پراسس کیا جائے گا۔ جس کے بعد اسے 2034 سے بڑھا کر 90 ملین ٹن سالانہ تک لے جایا جائے گا۔ فزیبلٹی رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے کہ ریکوڈک منصوبے سے 13.1 ملین ٹن تانبہ اور 17.9 ملین اونس سونا نکلے گا۔
رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے ریکوڈک منصوبے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے اسے 627 ملین ڈالر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں 349 ملین ڈالر کمپنی کے حصص یافتگان (شیئر ہولڈرز) فراہم کریں گے اور باقی کی رقم قرض کے ذریعے لی جائے گی۔
