بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی کے رکن رام جی لعل سُمن نے چار دن قبل یہ بیان داغ کر ہنگامہ برپا کردیا تھا کہ ہم مغل سلطنت کے پہلے شہنشاہ ظہیرالدین بابر کو تو بہت گالیاں دیتے ہیں مگر راجپوت راجا رانا سانگا کو کچھ نہیں کہتے جس نے ابراہیم لودھی کے خلاف میدانِ جنگ میں فتح کا امکان نہ پاکر ظہیرالدین بابر کو بھارت آنے اور دہلی کے تخت پر قبضہ کرنے کی دعوت دی تھی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ رام جی لعل سُمن کے بیان سے صرف راجپوت برادری کی نہیں بلکہ پورے بھارت کے ہندوؤں کی توہین ہوئی ہے کیونکہ رانا سانگا بہت بڑا ہندو راجا تھا۔ بی جے پی نے سماج وادی پارٹی سے کہا ہے کہ اس بیان پر معافی مانگی جانی چاہیے۔
رام جی لعل سُمن کے بیان کے نتیجے میں بھارت میں یہ بحث چھڑگئی ہے کہ کیا واقعی رانا سانگا نے ظہیرالدین بابر کو بھارت آنے، ابراہیم لودھی کو شکست دینے اور دہلی کے تخت پر قبضہ کرنے کی دعوت دی تھی۔
بات یہ ہے کہ ابراہیم لودھی نے، جو لودھی خاندان کا آخری بادشاہ تھا، اپنے والد سکندر لودھی کے برعکس علاقائی گورنرز کے اختیارات کو گھٹانا شروع کردیا تھا۔ وہ مضبوط مرکز چاہتا تھا جبکہ اُس زمانے کے بھارت میں مرکز کو کمزور رکھ کر ریاست، صوبوں، رجواڑوں اور جاگیروں کو زیادہ اختیار دیے جاتے تھے تاکہ توازن برقرار رہے۔ ابراہیم لودھی نے دہلی کے تخت پر بیٹھتے ہی اپنے والد کی پالیسیوں کو ترک کرتے ہوئے مضبوط مرکز والی حکومت یقینی بنانے کی بھرپور کوششیں شروع کردیں۔
جاگیرداروں کے اختیارات گھٹائے گئے تو اُن میں بددلی اور بدظنی پھیلی۔ اِسی طور ابراہیم لودھی نے بہت سے افغان علمداروں کو قتل کرواکے اُن کی جگہ اپنے وفاداروں کو عملداری سونپ دی۔ اِس اقدام سے افغان کمیونٹی میں ابراہیم لودھی کے خلاف غصہ بھرگیا۔ ابراہیم لودھی تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر زمینوں اور فصلوں کی آمدنی بھی دہلی کے خزانے میں ڈالنا چاہتا تھا۔
جب ابراہیم لودھی نے علاقائی حکومتوں کے ہاتھوں سے بہت کچھ چھیننا چاہا تو اس کے اقتدار کے لیے خطرات بڑھ گئے کیونکہ کئی مقامات پر بغاوت پھوٹ پڑی۔ جن لوگوں کے ہاتھوں سے اقتدار کا حصہ نکل رہا تھا وہ اس صورتِ حال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے ابراہیم لودھی کی حکومت گرانے کی کوششیں شروع کردیں۔ مرکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش میں ابراہیم لودھی نے جگہ جگہ اپنے دشمن پیدا کرلیے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب اُس کے لیے اپنا اقتدار برقرار رکھنا بالکل ممکن نہ رہا۔
1519 میں راجپوت راجا رانا سانگا نے مالوہ کے محمود خلجی ثانی کو ہراکر اُسے گرفتار بھی کرلیا اور اُس کی حکومت کے تحت آنے والے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ بھی کرلیا۔ فتح کے بعد رانا سانگا نے میدنی رائے کو مالوہ کی حکومت سونپ دی اور چانڈیری اس کا صدر مقام قرار پایا۔ رانا سانگا کی فتوحات نے دہلی کے فرماں روا ابراہیم لودھی کو متفکر کردیا۔ یوں دونوں میں مخاصمت بڑھتی گئی۔
1518 میں جنوبی راجستھان میں گھاٹولی کے مقام پر ابراہیم لودھی اور رانا سانگا کی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا۔ اس لڑائی میں رانا سانگا کا ایک بازو تلوار سے کٹ گیا اور ایک تیر اُس کی ٹانگ میں بھی لگا مگر پھر بھی وہ میدان میں ڈٹا رہا اور اپنی فوج کی قیادت جاری رکھی۔ اس لڑائی میں ابراہیم لودھی کو کئی مقامات پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور دھول پور کے معرکے میں شکست پر اُسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔
تیمور نسل کے بادشاہ ظہیرالدین بابر نے 1504 میں کابل اور غزنی کو فتح کرکے اپنی حکومت قائم کی۔ اُس نے اپنے چچا الغ بیگ دوم کو شکست دی تھی۔ فرغانہ اور سمرقند کے معرکوں میں بابر کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ “ساؤتھ ایشیا اِن ورلڈ ہسٹری” میں مارک جیسن گلبرٹ نے لکھا ہے کہ کئی بار بڑے معرکوں میں شکست کا منہ دیکھنے پر بابر نے ہندوستان کا رخ کیا۔ اُسے ہندوستان میں زیادہ کشش محسوس ہوتی تھی کیونکہ ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ یہ خوش حال خطہ تھا جس کی دولت کی دنیا بھر میں دھوم تھی۔
جب محمد شعبانی شمال مغرب میں بابر کے اقتدار کے لیے خطرہ بنا تو اس نے جنوب مشرقی میں پنجاب اور دیگر علاقوں پر نظر جمائی۔ 1519 میں بابر اپنے لشکر کے ساتھ دریائے چناب تک پہنچ چکا تھا۔ اب وہ شمالی ہندوستان پر قبضے کی جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھا۔
تاریخ دانوں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ بابر کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دی گئی تھی یا نہیں۔ اور اگر ہاں، تو یہ دعوت رانا سانگا نے دی تھی یا نہیں۔ بابر کی یاداداشتوں پر مبنی کتاب “بابر نامہ” میں درج ہے کہ رانا سانگا نے اُس کے لیے نیک خواہشات پر مبنی پیغام بھیجا تھا۔ اِس سے بہت سے لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ رانا سانگا چاہتا تھا کہ بابر شمالی ہندوستان کا رخ کرے اور دہلی کے تخت پر قبضے کی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے۔
ستیش چندر اور جدید دور کے دوسرے کئی تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ رانا سانگا کو ضرورت ہی نہیں پڑی کہ بابر کو ہندوستان آنے کی دعوت دے۔ وہ پہلے ہی بھارت میں قدم رکھ چکا تھا اور ابراہیم لودھی سے اُس کی ٹھنی ہوئی تھی۔ رانا سانگا مداخلت کیے بغیر اس مخاصمت کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا اور اٹھایا۔ بابر نامہ کے متن کے مطابق رانا سانگا نے لکھا تھا کہ اگر بادشاہ (بابر) دہلی کی طرف بڑھے تو دوسری طرف سے میں بھی بڑھوں گا۔ تاریخ کے کسی اور مآخذ سے بابر نامہ میں درج اِس بیان یا دعوے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
