English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلا دیش میں ایک اور سیاسی طوفان ابھرنے والا ہے؟

بنگلا دیش میں معاملات اب تک قابو میں نہیں آسکے ہیں۔ گزشتہ اگست میں وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی معزولی اور بھارت فرار کے بعد سے اب تک بنگلا دیش میں مجموعی طور پر وہ فضا تیار نہیں ہوسکی ہے جس کی توقع کی جارہی تھی اور جس کی ضرورت بھی تھی۔

انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ عوامی لیگ کے اقتدار کی بساط لپیٹنے والی طلبہ تحریک کے قائدین نے سیاسی جماعت قائم کرلی ہے اور اب ملک بھر میں انتہا پسندی بہت تیزی سے ابھر رہی ہے۔ انقلاب کی باتیں کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے مگر یہ منزل بہت دور دکھائی دے رہی ہے۔

ایسے عام انتخابات کی تیاری کی جارہی ہے جس میں عوامی لیگ حصہ نہیں لے سکے گی۔ عوامی لیگ نے پندرہ سال تک بلا شرکتِ غیرے اقتدار کے مزے لُوٹے تھے۔ اس دوران عوامی لیگ کے کارکنوں نے قومی خزانے کو جی بھر کے لُوٹا۔ اب سب کچھ بدل، بلکہ پلیٹ چکا ہے۔ عوامی لیگ پر غیر معمولی دباؤ ہے۔ ملک بھر میں اس کے کارکن اس قدر خوفزدہ ہیں کہ کھل کر سامنے آنے اور کچھ کہنے کو تیار نہیں۔ ایک سال قبل یہی کیفیت دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی تھی۔

عوامی لیگ کے خلاف اب بھی اِتنا زیادہ غصہ ہے کہ عوام اُس کے حق میں کوئی بات سُننے اور برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ طلبہ تحریک چلانے والوں نے جو پارٹی قائم کی ہے اُس کی مجموعی طاقت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم ایسی خبریں آرہی ہیں کہ جماعتِ اسلامی اور پاکستان سے کوئی نہ کوئی تعلق رکھنے والے فوجی افسروں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے صورتِ حال بہت مبہم ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی اتھارٹی کتنی رہ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے